Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر اُس کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ صلح ایک اعلیٰ تدبیر ہے جو ہر نزاعی مسئلہ کا واحد کامیاب حل ہے، خواہ وہ نزاعی مسئلہ انفرادی ہو یا اجتماعی، خواہ وہ قومی ہو یا بین اقوام۔ جب بھی دو آدمیوں یا دو فریقوں کے درمیان کوئی نزاع پیش آتی ہے تو اس نزاع کو حل تک نہ پہنچنے کا سبب صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ حرص ہے۔ اس موقع کے لحاظ سے حرص کا مطلب یہ ہے کہ عملاً جو کچھ مل رہا ہے اُس پر راضی نہ ہونا اور اُس سے زیادہ چاہنا۔ یہی حرص یا زیادہ چاہنے کا مزاج نزاع کو ختم نہیں ہونے دیتا۔ وہ آخرکار بڑھ کر باقاعدہ ٹکراؤ کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صلح یہ ہے کہ بروقت جو کچھ عملی طور پر مل رہا ہے اُس پر راضی ہو کر معاملہ کو ختم کر دینا۔ جب ایک شخص صلح کے اس طریقہ کو اختیار کرے تو اپنے آپ نزاع کی حالت ختم ہو جاتی ہے۔ اُس کے بعد یہ نوبت ہی نہیں آتی کہ نزاع بڑھ کر ٹکراؤ بن جائے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دیکھے تو حرص کا طریقہ ہمیشہ مزید نقصان کا سبب بنتا ہے، اور صلح کا طریقہ کام کے مواقع کھولتا ہے، جس کو استعمال کر کے مزید ترقی حاصل کر لی جائے۔ صلح کوئی سادہ بات نہیں۔ صلح کوئی انفعالی روش نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صلح اپنے آپ میں سب سے بڑا عمل ہے۔ صلح بظاہر میدانِ مقابلہ سے واپسی ہے۔ مگر عملاً وہ اقدام کی سب سے بڑی تدبیر ہے۔ جب کوئی فرد یا گروہ صلح کر لے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے لیے ایک ایسا ماحول پالیا جس کے اندر وہ ٹکراؤ میں وقت ضائع کیے بغیر اپنے پورے وقت اور طاقت کو اپنے تعمیری منصوبہ میں لگائے۔ غیر مصالحانہ طریقہ زندگی کے سفر کو روک دیتا ہے۔ اس کے برعکس مصالحانہ طریقہ زندگی کے سفر کوڑے کے بغیر دوبارہ مزید اضافہ کے ساتھ جاری کر دیتا ہے۔ انتہا پسندی نہیں قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں جو احکام دیے گئے ہیں اُن میں سے ایک حکم یہ ہے کہ لوگ غلو یا انتہا پسندی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ غلو یا انتہا پسندی ہر حال میں بُری چیز ہے۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page