Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 88

By Maulana Wahiduddin Khan

عملی اقدام کی زیادہ مؤثر تدبیر یہ ہے کہ اطراف کے شعبوں سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ اطراف سے چل کر مرکز تک پہنچا جائے۔ غیر سیاسی اداروں میں نفوذ حاصل کرتے ہوئے سیاسی ادارہ پر مؤثر بننے کی کوشش کی جائے۔ یہ طریقہ کامیابی کا یقینی طریقہ ہے۔ اس کے برعکس دوسرا طریقہ نقصان اور ناکامی کا طریقہ۔ اس حقیقت کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ اکثر حالات میں کسی کے خلاف براہ راست کارروائی مفید نہیں ہوتی۔ اکثر حالات میں زیادہ مفید طریقہ یہ ہے کہ بالواسطہ انداز میں اپنی کوشش شروع کی جائے۔ براہ راست کارروائی کے مقابلہ میں بالواسطہ کارروائی کا انداز اکثر حالات میں زیادہ کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ ملاقات کا صحیح طریقہ قرآن کی سورہ نمبر ۲۴ میں باہمی ملاقات کے آداب بتاتے ہوئے ایک تعلیم یہ دی گئی ہے کہ ملاقات کے لیے پیشگی اجازت کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ مذکورہ قرآنی آیت ہے : اے ایمان والو، تم اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہو جب تک اجازت حاصل نہ کرلو اور گھر والوں کو سلام نہ کر لو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے تا کہ تم یاد رکھو (النور ۲۷) قرآن کی اس آیت میں ملاقات سے پہلے اپائنٹمنٹ (appointment) لینے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ یعنی ایک شخص جب دوسرے شخص سے ملنا چاہے تو اُس کے یہاں جانے سے پہلے پیشگی طور پر وہ باقاعدہ اُس سے اجازت حاصل کرے اور پھر اُس کے یہاں ملنے کے لیے جائے ۔ آدمی کو ایسا نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کسی کے یہاں ملاقات کے لیے اچانک پہنچ جائے۔ اس سے سماجی زندگی میں مختلف قسم کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ خود ملاقات کا مقصد بھی حاصل نہیں ہوتا۔ اگر بالفرض کوئی شخص پیشگی اجازت نامہ کے بغیر کسی کے ہاں ملنے کے لیے پہنچ جائے تو اُس کے اندر یہ حوصلہ ہونا چاہیے کہ اگر متعلقہ شخص اپنے کسی عذر کی بنا پر ملاقات نہ کر سکے یا ملاقات کے لیے بہت کم وقت دے تو فریق اول کو اس پر کوئی شکایت نہیں ہونی چاہئے۔ اُس کو چاہئے کہ وہ اگلی ملاقات کے لیے دوبارہ وقت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page