Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

لے کر بلا شکایت واپس چلا جائے ۔ یہ انسانیت کا اعلیٰ طریقہ ہے اور اعلیٰ طریقہ کے بغیر کبھی انسانیت کی اعلیٰ ترقی نہیں ہو سکتی۔ جس طرح ہر چیز کے آداب ہیں اُسی طرح ملاقات کے بھی آداب ہیں۔ ملاقات کے آداب میں سے یہ ہے کہ متعلقہ شخص سے اُس کی پیشگی اجازت لی جائے۔ گفتگو کے وقت سُنانے کے ساتھ سننے کا بھی مزاج ہو۔ غیر ضروری سوال یا بے فائدہ تفصیل سے بچا جائے ۔ تنقید اور تعریف سے بلند ہو کر بات کو سُنا جائے ۔ اپنی رعایت کے ساتھ دوسرے کی رعایت کا بھی پورا لحاظ رکھا جائے ۔ گفتگو آہستہ انداز میں کی جائے۔ گفتگو کے وقت زور زور سے بولنا آدابِ کلام کے خلاف ہے۔ ٹکراؤ سے اعراض قرآن کی سورہ نمبر ۲۷ میں قدیم قوم سبا کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ سے اجتماعی زندگی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اُس کی متعلقہ آیتیں یہ ہیں: ملکہ سبا نے کہا کہ اے دربار والو، میری طرف ایک با وقعت خط ڈالا گیا ہے۔ وہ سلیمان کی طرف سے ہے۔ اور وہ ہے:۔ شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے کہ تم میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور مطیع ہو کر میرے پاس آجاؤ۔ ملکہ نے کہا کہ اے دربار والو، میرے معاملے میں مجھے رائے دو۔ میں کسی معاملہ کا فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم لوگ حاضر نہ ہو۔ اُنہوں نے کہا، ہم لوگ زور آور ہیں اور سخت لڑائی والے ہیں۔ اور فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔ پس آپ دیکھ لیں کہ آپ کیا حکم دیتی ہیں۔ ملکہ نے کہا کہ بادشاہ لوگ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اُس کو خراب کر دیتے ہیں اور اُس کے عزت والوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور یہی یہ لوگ کریں گے۔ (النمل ۲۹ - ۳۲) اس آیت میں ملکہ سبا کے حوالہ سے زندگی کا ایک اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اقدام ہمیشہ نتیجہ کو دیکھ کر کرنا چاہئے، نہ کہ محض خواہش کی بنیاد پر۔ کسی کے خلاف اقدام کرنا اگر مثبت نتیجہ پیدا کرنے والا ہو تو ایسے اقدام کو درست کہا جا سکتا ہے مگر جو اقدام الٹا نتیجہ پیدا کرنے والا (counter productive) ہو، اُس سے بچنا لازمی طور پر ضروری ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page