Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 91

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے اور بلند سوچ اور بلند کرداری وہ صفتیں ہیں جو کسی آدمی کو دوسروں کے اوپر سرداری کا مقام دیتی ہیں۔ لوگ اسی شخص یا گروہ کو اپنا امام تسلیم کرتے ہیں جو انہیں اپنے سے بلند دکھائی دے۔ جو اس وقت اصول کے لیے جئے جب کہ لوگ مفاد کے لیے جیتے ہیں۔ جو اس وقت انصاف کی حمایت کرے جب کہ لوگ قوم کی حمایت کرنے لگتے ہیں۔ جو اس وقت برداشت کرے جب کہ لوگ انتقام لیتے ہیں۔ جو اس وقت اپنے کو محرومی پر راضی کر لے جب کہ لوگ پانے کے لیے دوڑتے ہیں۔ جو اس وقت حق کے لیے قربان ہو جائے جب کہ لوگ صرف اپنی ذات کے لیے قربان ہونا جانتے ہیں۔ یہی صبر ہے اور جو لوگ اس صبر کا ثبوت دیں وہی قوموں کے امام بنتے ہیں۔ دشمن میں دوست قرآن میں فطرت کے جو قوانین بتائے گئے ہیں اُن میں سے ایک قانون یہ ہے کہ کوئی آدمی کبھی کسی کا پیدائشی دشمن نہیں ہوتا۔ ہر آدمی کی فطرت وہی ہے جو کسی دوسرے آدمی کی ہے۔ اس لیے کسی کو بھی اپنا ابدی دشمن نہیں سمجھنا چاہئے۔ اس حقیقت کو قرآن کی سورہ نمبر ۴۱ میں اس طرح بتایا گیا ہے : ”اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے خدا کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔“ (حم السجدہ ۳۳-۳۴) ہر انسان پیدائشی اعتبار سے فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر انسان پیدائشی طور پر ویسا ہی ایک انسان ہے جیسا کہ کوئی دوسرا شخص۔ دشمنی جیسی منفی چیزیں انسانی شخصیت کا محض اوپری حصہ ہیں نہ کہ اُس کا داخلی حصہ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی آپ کو اپنا دشمن نظر آئے تو اُس کو اپنا مستقل دشمن نہ سمجھے۔ بلکہ اُس کی دشمنی کو ایک وقتی حالت سمجھیے۔ دشمن کے بارہ میں اگر اس قسم کی مثبت سوچ پیدا ہو جائے تو آدمی اس قابل ہو جائے گا کہ وہ تعصب جیسے جذبات سے اوپر اُٹھ کر دشمن کے معاملہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page