Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 92

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنا رویہ متعین کرے ۔ جو آدمی اس طرح غیر جذباتی انداز میں اپنے دشمن سے معاملہ کرے تو وہ یقینی طور پر کامیاب ہوگا۔ دشمن کی منفی کارروائیوں کی پروا کیے بغیر اُس کے ساتھ دوستانہ سلوک کرنا دشمن کو بدل دے گا ۔ اُس کی شخصیت کے اوپر دشمنی کی جو اوپر کی تہہ بیٹھ گئی تھی وہ دھل جائے گی اور پھر جو شخص بظاہر آپ کا دشمن بنا ہوا تھا وہ آپ کا دوست بن جائے گا ۔ مصیبت کا سبب قرآن کی سورہ نمبر ۴۲ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ دنیا میں شکست اور ناکامی کا سبب کیا ہوتا ہے ۔ اس سلسلہ میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ’’ اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں ہی سے ہے ، اور بہت سے قصوروں کو وہ معاف کر دیتا ہے ‘‘ (الشوریٰ ۳۰) قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک قانون بتایا گیا ہے ۔ اس قانون کے مطابق کسی کی دشمنی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی ۔ بلکہ یہ خود انسان ہے جو اپنی کوتاہی کی سزا پا رہا ہے ۔ ہر مصیبت کا سبب آدمی کے خود اپنے اندر ہوتا ہے، نہ کہ اُس کے باہر۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی آدمی کسی مصیبت یا کسی نقصان سے دوچار ہو تو اُس کو اِس سے نجات پانے کے لیے خود اپنے اندر عمل کرنا چاہیے ۔ اُس کو چاہیے کہ وہ اپنی داخلی کمیوں کو تلاش کر کے اُن کی اصلاح کرے ۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے مستقبل کو درست کر سکتا ہے ۔ اس کے بجائے جو آدمی یہ کرے کہ وہ اپنی مصیبت کا ذمہ دار دوسروں کو بتا کر اُن کے خلاف شکایت اور احتجاج میں مصروف ہو جائے ، وہ صرف اپنا وقت ضائع کر رہا ہے ۔ ایسی کوشش کبھی کسی مثبت نتیجہ تک پہنچنے والی نہیں ۔ قرآن کی یہ آیت نتیجہ خیز منصوبہ بندی کے اصول کو بتا رہی ہے ۔ اُس کا پیغام یہ ہے کہ آدمی بے نتیجہ کارروائیوں سے اپنے آپ کو بچائے اور صرف نتیجہ خیز سرگرمیوں میں اپنے آپ کو مصروف کرے ۔ یہ فطرت کا قانون ہے، اور فطرت کا قانون کبھی کسی کے لیے بدلنے والا نہیں ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page