Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم اللہ الرحمن الرحیم ہندوستان آزادی کے بعد ہندوستان کی آزادی ہمارے ملک کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا واقعہ ہے، یہ وہ واقعہ ہے جس کو وجود میں لانے کے لیے پچھلے ایک سو سال سے ہمارے ملک کے بہترین دماغ اور بہترین ذرائع و وسائل لگے ہوئے تھے، اور جس کے لیے سارا ملک چشم براہ تھا۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے لوگ کس درجہ بے قرار تھے، اس کا اندازہ آپ دو واقعات سے کر سکتے ہیں۔ امرت بازار پتریکا کے سابق ایڈیٹر آنجہانی موتی لال گھوش ۱۹۲۰ء میں انتقال کرنے لگے تو انہوں نے کہا: ”اب میں ایسی دنیا میں جا رہا ہوں جہاں برطانی راج نہ ہوگا۔“ دوسرا واقعہ جنوری ۱۹۳۱ء کا ہے جب مولا نا محمد علی مرحوم گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن گئے تھے۔ وہاں انہوں نے اپنی تاریخی تقریر میں کہا: ”اب میں آزادی لیے بغیر اپنے غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا۔ اگر آپ نے ہندوستان میں ہمیں آزادی نہیں دی تو یاد رکھیے کہ آپ کو اپنے یہاں مجھے قبر کی جگہ دینی ہوگی۔“ ان دو واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انگریزی حکومت کے دور میں جو لوگ ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، اس معاملے میں ان کے جذبات کس قدر شدید تھے۔ ہندوستان کو آزاد دیکھنے کی یہ تڑپ جو ملک کے باشندوں میں تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک کو اپنی مرضی کے مطابق بنانا چاہتے تھے، وہ گنگا جمنا کے اس دیس میں ایک ایسی بھر پور اور شاداب زندگی دیکھنے کے خواہشمند تھے جو یہاں کے باشندوں کو سکھ اور چین سے مالا مال کر دے۔ وہ اپنی پسند کے مطابق، ایک ”نیا ہندوستان‘ بنانا چاہتے تھے جس کا موقع دوسرے کی حکومت میں نہیں مل سکتا تھا۔ اسی حقیقت کو جدوجہد آزادی کے سب سے بڑے لیڈر مہاتما گاندھی نے ایک مرتبہ ان لفظوں میں ادا کیا تھا: ”میرا مشن ہر آنکھ کے آنسو پونچھنا ہے۔“ یہ آواز تمام ہندوستانیوں کے دل کی آواز تھی۔ یہی وجہ تھی جب کانگریس آزادی اور فلاحی ریاست

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page