Urdu book · ہندوستان آزادی کے بعد

ہندوستان آزادی کے بعد

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

(Welfare State) بنانے کی تحریک لے کر اٹھی تو سارے ملک نے متفق ہو کر اس کا ساتھ دیا اور اس زور و شور سے دیا کہ انگریزی حکومت کی ساری طاقت اس کے خلاف عاجز ہو کر رہ گئی۔ آزادی کے نعرے پر پورا ملک کس طرح اُمڈ پڑا تھا، اس کا اندازہ اس چھوٹے سے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جو پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے ۔ ۱۹۳۰ء میں پنڈت نہروا ایک جلوس کی قیادت کر رہے تھے جو آزادی کے مطالبہ کے لیے اٹھا تھا۔ انگریز حکام نے اس جلوس کو روکنے کا فیصلہ کیا اور دفعہ ۱۴۴ کا نوٹس جاری کر کے پولیس کے ایک افسر کو روانہ کیا کہ وہ اسے پنڈت نہرو تک پہنچادے۔ مگر جلوس کے ساتھ آدمیوں کی بھیڑ اتنی زیادہ تھی کہ پولیس افسر پنڈت نہرو کی کار تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہوا، اور نوٹس پر تعمیل نہ کیا جا سکا۔ اس کے بعد بالآخر وہ مبارک وقت آيا جب کہ انگریز اس ملک کو ملک والوں کے ہاتھ میں دے کر یہاں سے واپس چلا گیا ۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کی شام ہم میں سے اکثر لوگوں کو یاد ہوگی ۔ یہی وہ شام ہے جب کہ ہندوستان کو آزادی ملی ، اس روز ہندوستان کا ایک ایک شہر چراغوں کی روشنی سے جگمگا اُٹھا تھا۔ سارے ملک نے بڑے دھوم کے ساتھ آزادی کی خوشی منائی تھی۔ مگر اگلے دن جب ہم سو کر اٹھے تو تمام چراغ بجھ چکے تھے اور اس کے بعد وہ پھر کبھی نہیں جلائے گئے ۔ اب بھی پندرہ اگست آتی ہے، مگر ملک کو اب اس سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ عام شہریوں کے نزدیک اس کی اہمیت صرف اتنی ہے کہ کیلنڈر میں ۱۵ اگست کی تاریخ سرخ روشنائی سے چھپی ہوئی ہوتی ہے، جو اس بات کا نشان ہے کہ آج تمام سرکاری دفتروں اور بینکوں میں تعطیل ہوگی ۔ اب ۱۵ اگست صرف ایک سرکاری تہوار ہے جس میں سرکاری عمارتوں میں کچھ تقریبات ہوتی ہیں اور اسکول کے ماسٹروں کو احکام بھیج دیے جاتے ہیں کہ وہ بچوں کا جلوس لے کر نکلیں اور سڑکوں اور گلیوں میں کچھ نعرے لگوادیں ۔ یہ آزادی جو ایک صدی کی کوششوں کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی___ چند سال بھی نہیں گزرے تھے کہ لوگ اسے بھول گئے بلکہ اب تو آپ بعض زبانوں کو یہ کہتے ہوئے سنیں گے کہ انگریزوں کا دور اس آزادی کے زمانے سے بہتر تھا۔ آزادی کو ملے ہوئے ۳۵ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں مگر اب بھی ہماری سڑکوں پر ” انقلاب زندہ باد کے نعرے لگتے ہیں اور وزیروں اور گورنروں کو کالی جھنڈیاں دکھائی جاتی ہیں، جس طرح وہ انگریز حکمرانوں کو دکھائی جاتی تھیں۔ ایسا کیوں ہے ، کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد جن لوگوں کے ہاتھ میں ہندوستان کی باگ ڈور آئی ہے وہ اس کی ترقی کے لیے کوئی کام نہیں کر رہے ہیں ؟ ایسا نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے فورا بعد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page