رسول کی پیروی سے
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
جانا حکمت کے خلاف ہے۔ دوسرے یہ کہ اسامہ بن زید ایک غلام کے لڑکے تھے اس لئے بہت سے لوگوں کو ان کی سرداری پر انقباض تھا۔ نیز وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اسامہ ابھی صرف سترہ سال کے نوجوان ہیں اور ان کی ماتحتی میں بڑے بڑے صحابہ ہیں۔ لوگوں کا خیال تھا کہ کسی معمر قریشی کو سردار مقرر کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہو۔ عمر فاروق رضہ بھی ابتدا ء اس لشکر میں شامل تھے ، وہ لوگوں کا پیغام لے کر حضرت ابو بکر رض کے پاس روانہ ہوئے ۔ حضرت ابو بکر نے پہلی بات سن کر فرمایا : لشکر کی روانگی کے بعد اگر میں مدینہ میں تنہا رہ جاؤں اور درندے مجھے کو پھاڑ کھائیں تب بھی میں ایک ایسے لشکر کی روانگی کو روک نہیں سکتا جس کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا ہو۔ دوسرے پیغام کو سن کر آپ نے فرمایا ’’ کیا ان کے دلوں میں ابھی تک جاہلی فخر و تکبر کا اثر باقی ہے ‘‘ یہ کہہ کر آپ اٹھے اور لشکر کو خود رخصت کرنے کے لئے پیدل چل کر لشکر گاہ تک پہنچے ۔ اسامہ بن زید کو ان کے لشکر کے ساتھ روانہ کیا ، جب اسامہ اپنی سواری پر چلے تو آپ ان کے ساتھ ساتھ باتیں کرتے ہوئے چلنے لگے۔ اسامہ نے کہا کہ یا تو آپ بھی سوار ہو جائیں ، یا میں سواری سے اتر جاؤں ۔ حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا : نہ میں سوار ہوں گا اور نہ تم کو سواری سے اترنے کی ضرورت ہے۔ یہ خلیفہ اول کی طرف سے گویا لوگوں کے سوال کا عملی جواب تھا۔ خلیفہ کو اسامہ کی رکاب میں چلتے دیکھ کر سب کا انقباض ختم ہو گیا۔ اسامہ کی سرکردگی میں صحابہ کا لشکر رومی علاقہ کی طرف روانہ ہوا تو اس کی خبریں چاروں طرف پھیل گئیں بہت سے مخالفین کے لئے یہ مسلمانوں کے اعتماد کا مظاہرہ بن گیا۔ انھوں نے سوچا کہ مدینہ والوں کے پاس کافی طاقت ہوگی جبھی تو وہ اس نازک وقت میں اتنا بڑا لشکر دار السلطنت سے دور بھیج رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے سوچا کہ مدینہ پر اقدام کرنے میں ہم کو توقف کرنا چاہیے۔ پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ مسلمانوں اور رومیوں کی جنگ کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ اگر مسلمانوں کو اس جنگ میں شکست ہوتی ہے تو وہ اور زیادہ کمزور ہو جائیں گے اور اس کے بعد ان کے اوپر اقدام کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔ اسامہ بن زید کے لشکر کو رومیوں کے خلاف مہم میں زبردست کامیابی ہوئی۔ اس مہم میں ان کو چالیس دن لگے۔ اسامہ بن زید اس مہم کی قیادت کے لئے موزوں ترین شخص تھے۔ کیونکہ ان کے باپ زید بن حارثہ کو رومیوں نے موتہ کی جنگ میں شہید کیا تھا اور ان کے دل میں اپنے باپ کا انتقام لینے کا جذ بہ بھڑک رہا تھا، اسامہ کی رہنمائی میں اسلامی لشکر انتہائی بے جگری سے لڑا اور رومیوں کو شکست دی۔ اس کے بعد وہ کافی قیدی اور مال غنیمت لے کر مدینہ واپس آئے۔ یہ دیکھ کر باغیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ اور نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ ان کو زیر کر لیا گیا۔ رسول کی پیروی ان کے لئے دشمنوں پر غلبہ کا ذریعہ بن گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader