عزت کیسے ملتی ہے
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
عزت کیسے ملتی ہے ۷ھ میں مسلمان فوجیں حضرت ابوعبیدہ رض کی قیادت میں شام کو فتح کرتے ہوئے فلسطین تک پہنچ گئیں۔ عیسائی بیت المقدس میں قلعہ بند ہو گئے اور مسلم فوجوں نے اس کو اپنے محاصرہ میں لے لیا۔ اس وقت عیسائیوں کی طرف سے صلح کی پیش کش ہوئی جس میں ایک خاص شرط یہ تھی کہ خلیفہ (عمر فاروق رض) خود آکر عہد نامہ کی تکمیل کریں۔ حضرت ابوعبیدہ نے عیسائیوں کی اس پیش کش سے خلیفہ دوم کو مطلع کیا۔ آپ نے اصحاب سے مشورہ کیا اور بالآخر مدینہ سے نکل کر فلسطین کے لئے روانہ ہوئے۔ حضرت عمر فاروق کے ساتھ ایک اونٹ تھا اور ایک خادم۔ جب آپ مدینہ کے باہر پہنچے تو آپ نے خادم سے کہا۔ ہم دو ہیں اور سواری ایک ہے۔ اگر میں سواری پر بیٹھوں اور تم پیدل چلو تو میں تمھارے اوپر ظلم کروں گا۔ اور اگر تم سواری پر بیٹھو اور میں پیدل چلوں تو تم میرے اوپر ظلم کرو گے۔ اگر ہم دونوں اکٹھے سوار ہو جائیں تو ہم جانور کی پیٹھ توڑ ڈالیں گے ۔ اس لئے ہم کو چاہئے کہ ہم راستہ کی تین باریاں مقرر کر لیں ۔ چنانچہ سارا سفر اس طرح طے ہوا کہ ایک بار عمر فاروق بیٹھتے اور خادم اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتا۔ پھر خادم بیٹھتا اور عمر فاروق رض اونٹ کی نکیل پکڑ کر چلتے۔ اس کے بعد کچھ دور تک اونٹ خالی چلتا اور دونوں اس کے ساتھ پیدل چل رہے ہوتے ۔ اس طرح سارا سفر طے ہوتا رہا۔ حاکم نے روایت کیا ہے کہ اس سفر کے دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ جب آپ اسلامی لشکر سے ملے تو ان لوگوں نے دیکھا کہ آپ ایک تہ بند باندھے ہوئے ہیں اور کسی قسم کا کوئی سامان آپ کے پاس نہیں ہے۔ حضرت ابوعبیدہ (فوج کے افسر اعلیٰ) نے کہا کہ اے امیر المومنین آپ کو عیسائیوں کے فوجی افسروں اور ان کے مذہبی عہدیداروں سے ملنا ہے اور آپ اس حال میں ہیں۔ عمر فاروق نے کہا: اے ابوعبیدہ ، کاش یہ بات تمھارے سوا کوئی اور کہتا۔ ہم دنیا میں سب سے پست قوم تھے پھر اللہ نے اسلام کے ذریعہ ہم کو عزت دی۔ جب بھی ہم اس کے سوا کسی اور چیز کے ذریعہ عزت چاہیں گے تو اللہ ہم کو ذلیل کر دے گا (انا کنا اذل قوم فاعزنا اللہ بالاسلام فمهما نطلب العز بغير ما اعزنا الله به اذنانا الله) عزت اور ذلت کو اللہ کی طرف سے سمجھنا ایک ایسا عقیدہ ہے جو آدمی کو بغیر کسی ہتھیار کے ہتھیار دالا بنا دیتا ہے۔ یہ عقیدہ آدمی کو ایک ایسی خود اعتمادی سکھاتا ہے جو کسی خارجی سہارے کے بغیر اپنی اندرونی طاقت کے اوپر قائم ہوتی ہے اس کا خزانہ آدمی کے اندر ہوتا ہے نہ کہ اس کے باہر اور جس طاقت کی بنیاد اندرونی جذبہ پر ہو اس کو کوئی چھینے والا کبھی چھین نہیں سکتا ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader