ظالم کا دل ہل گیا
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
اور بے خوفی کے ساتھ اس کو شکار کا واقعہ یاد دلانا جو میرے ساتھ پیش آیا تھا۔ شاید اللہ اس کا سینہ حق کے لئے کھول دے۔ اس کے بعد شیخ جمال الدین کا انتقال ہو گیا۔ باپ کی وصیت کے مطابق ان کے لڑکے شیخ رشید الدین تاتاری شہزادہ کی تخت نشینی کا انتظار کرنے لگے۔ جلدی ان کو خبر ملی کہ تعلق تیمور تخت پر بیٹھ گیا ہے۔ اب وہ اپنے وطن سے روانہ ہوئے۔ منزل پر پہنچے تو دربانوں نے خیمہ کے اندر جانے سے روک دیا۔ کیوں کہ ان کے پاس دربانوں کو بتانے کے لئے کوئی بات نہ تھی کہ وہ کیوں بادشاہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ خیمہ کے قریب ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈال کر بڑھ گئے۔ ایک روز وہ فجر کے لئے اٹھے۔ اول وقت تھا اور فضا میں ابھی سناٹا چھایا ہوا تھا۔ انھوں نے بلند آواز سے اذان دینا شروع کیا۔ یہ آواز خیمہ کے اس حصہ تک پہنچ گئی جہاں شاہ تعلق تیمور سورہا تھا۔ بادشاہ کو ایسے وقت میں یہ آواز بے معنی شور معلوم ہوئی۔ اس نے اپنے ملازموں سے کہا کہ دیکھو یہ کون پاگل ہے جو اس وقت ہمارے خیمہ کے پاس شور کر رہا ہے۔ اس کو پکڑ کر ہمارے پاس حاضر کرو۔ چنانچہ شیخ رشید الدین فوراً بادشاہ کی خدمت میں حاضر کر دئے گئے۔ اب بادشاہ نے ان سے سوال و جواب شروع کیا کہ تم کون ہو اور کیوں ہمارے خیمہ کے پاس شور کر رہے ہو، یہ شیخ رشید الدین نے اپنے والد شیخ جمال الدین کی پوری کہانی سنائی اور کہا کہ آپ کے سوال کے جواب میں جب میرے والد نے کہا تھا کہ اگر ہم کو سجادین نہ ملا ہوتا تو یقیناً ہم کتے سے بھی زیادہ برے ہوتے تو آپ نے کہا تھا کہ اس وقت میں کچھ نہیں کہتا مگر جب میری تخت نشینی ہو جائے تو تم میرے پاس آنا۔ مگر اس کے انتظار میں میرے والد کا آخری وقت آگیا۔ اب ان کی وصیت کے مطابق میں آپ کے پاس وہ بات یاد دلانے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ بادشاہ نے پورے قصہ کو غور کے ساتھ سنا۔ آخر میں بولا کہ مجھے اپنا وعدہ یاد ہے۔ میں تمھارے انتظار میں تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے وزیر کو بلایا اور کہا کہ ایک راز میرے سینہ میں تھا جس کو آج اس ایرانی فقیر نے یاد دلایا ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ میں اسلام قبول کر لوں، تمھاری کیا رائے ہے۔ وزیر نے کہا کہ میں بھی یہی راز اپنے سینہ میں لئے ہوئے ہوں۔ میں سمجھ چکا ہوں کہ سجادین یہی ہے۔ اس کے بعد بادشاہ اور وزیر دونوں شیخ رشید الدین کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے ۔ اس کے بعد بقیہ در باریوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ بادشاہ کے قبول اسلام کے بعد پہلے ہی دن ایک لاکھ ساٹھ ہزار آدمیوں نے اسلام قبول کر لیا اور بالآخر ایران کی پوری تاتاری قوم نے بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader