بڑھیا کی دلیری
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
بڑھیا کی دلیری عباسی خلیفہ مامون الرشید (۲۱۸ - ۷۱۰ھ) اپنے سیاسی مخالفین کے لئے نہایت بے رحم تھا مگر عام لوگوں کے ساتھ وہ ہمیشہ ہمدردی سے پیش آتا تھا۔ ایک روز اس کے دربار میں بغداد کی ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے خلیفہ مامون سے شکایت کی کہ میں ایک غریب عورت ہوں۔ میرے پاس ایک زمین تھی جس کو ایک ظالم نے مجھ سے چھین لیا۔ میں نے کتنی ہی فریاد کی مگر اس نے نہیں سنا۔ میری داد رسی کی جائے۔ مامون نے پوچھا : وہ کون ظالم ہے جس نے تمھارے ساتھ ایسا سلوک کیا ہے ، بڑھیا نے اشارہ سے بتایا کہ وہ وہی ہے جو اس وقت آپ کے پہلو میں بیٹھا ہوا ہے۔ مامون نے دیکھا تو وہ اس کا لڑکا عباس تھا۔ مامون نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ شہزادہ کو پکڑ کر اٹھائے اور اس کو لے جا کر بڑھیا کے برابر کھڑا کر دے۔ وزیر نے ایسا ہی کیا۔ اب مامون نے حکم دیا کہ دونوں اپنا اپنا بیان دیں۔ شہزادہ عباس رک رک کر آہستہ آواز میں بولتا تھا۔ لیکن بڑھیا بلند آواز میں بول رہی تھی۔ وزیر نے بڑھیا کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آہستہ بولو، خلیفہ کے سامنے زور زور سے بولنا آداب کے خلاف ہے۔ مامون نے اپنے وزیر کو روکا اور کہا: اس کو آزاد چھوڑ دو، جس طرح چاہے اسے کہنے دو۔ سچائی نے بڑھیا کی زبان تیز کر دی ہے اور شہزادہ کو اس کے جھوٹ نے گونگا بنا دیا ہے۔ بڑھیا کا دعویٰ صحیح تھا۔ چنانچہ مقدمہ کا فیصلہ بڑھیا کے حق میں ہوا اور اس کی زمین شہزادہ سے لے کر اس کو واپس کر دی گئی (عقد الفرید جلد اول) سچائی اپنی ذات میں ایک طاقت ہے۔ سچائی پر ہونے کا احساس آدمی کو دلیر بنا دیتا ہے۔ سچا آدمی بے دھڑک ہو کر بولتا ہے۔ سچے آدمی کا بیان تضا د اور تصنع سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے کلام میں کوئی جھول نہیں ہوتا۔ سچا آدمی بولتا ہے تو اس کے چہرے پر احساس جرم کا کوئی نشان نہیں ہوتا۔ اس کی آواز جھجھک سے خالی ہوتی ہے۔ اس بنا پر سچے آدمی کی آواز میں قوت آجاتی ہے۔ وہ سننے والے کو مفتوح کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس جس آدمی کا معاملہ جھوٹ پر مبنی ہو وہ کبھی قوت کے ساتھ نہیں بول سکتا۔ وہ ہمیشہ احساس جرم میں مبتلا رہتا ہے جس کا اثر اس کے لہجہ پر آ جاتا ہے۔ اس کا چہرہ بتا دیتا ہے کہ وہ بے یقینی کے ساتھ بول رہا ہے۔ جھوٹ کو سچ بنانے کی کوشش میں اس کے بیان کے اندر تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ زبان رکھنے کے باوجود وہ بے زبان ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader