اچھی زندگی
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
اَچھی زندگی متوکل علی اللہ (۲۳۲ - ۲۴۷ھ) ایک عباسی خلیفہ تھا۔ فتح بن خاقان کہتے ہیں کہ ایک روز میں خلیفہ متوکل کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت وہ سرنیچا کئے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا۔ میں نے کہا: امیر المومنین، آپ کچھ فکر مند معلوم ہوتے ہیں۔ حالاں کہ آپ وہ شخص ہیں جس کو روئے زمین پر سب سے زیادہ آسائش کے سامان حاصل ہیں۔ خلیفہ متوکل نے میری بات سن کر اپنا سراٹھایا اور کہا : اے فتح، مجھ سے زیادہ اچھی زندگی اس شخص کی ہے جس کے پاس ایک کشادہ مکان ہو، نیک بیوی ہو، بقدر ضرورت روزی کا انتظام ہو، نہ ہم اس کو جانتے ہوں کہ اس کو تکلیف دیں اور نہ وہ ہمارا محتاج ہو کہ ہم اس کو رسوا کریں (تاریخ الخلفاء، صفحہ ۲۴۱) ’’اچھی زندگی‘‘ اس کا نام نہیں کہ آدمی کے پاس زندگی کے ساز و سامان کی کثرت ہو۔ اچھی زندگی کا راز قناعت ہے۔ قناعت کی دولت اسے ملتی ہے جو بقدر ضرورت چیزوں پر راضی ہو جائے اور شہرت و عزت سے بے نیاز ہو کر جینا جانتا ہو۔ کسی کو بقدر ضرورت روزی حاصل ہو تو اس سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔ بقدر ضرورت روزی پر مطمئن نہ ہونا صرف حرص کی بنا پر ہوتا ہے اور حرصیں آدمی کے لئے کبھی اطمینان نہیں ۔ کیونکہ بقدر ضرورت کی حد ہے مگر حرص کی کوئی حد نہیں ۔ بیوی اس لئے ہے کہ وہ زندگی کی رفیق بنے اور آدمی کے لئے گھر ملی سكون کا ذریعہ ہو۔ مگر یہ فائدہ صرف نیک اور صالح بیوی سے حاصل ہوتا ہے۔ دوسری تمام خصوصیات جو آدمی ایک عورت میں تلاش کرتا ہے وہ زوال پذیر بھی ہیں اور نئے نئے مسائل پیدا کرنے والی بھی۔ کسی کے پاس کشادہ مکان ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو خود اپنی ایک دنیا حاصل ہے جہاں وہ اپنی پسند کے مطابق ایک زندگی بنا کر اس کے اندر رہ سکتا ہے۔ دانش مند آدمی کے لئے کشادہ مکان گویا طوفان نوح کے درمیان ایک کشتی نوح ہے۔ گم نامی آدمی کے لئے سب سے بڑی عافیت ہے۔ کیوں کہ جو شخص نام حاصل کرلے اس کو حاسدین کے حسد سے بچنا ممکن نہیں۔ اسی طرح جس شخص کو خدا نے دوسروں کی محتاجی سے بچایا ہو اس سے بڑا خوش قسمت اور کوئی نہیں۔ کیوں کہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ عین اس مقام پر آدمی کو ذلیل کر دیتے ہیں جہاں وہ حاجت مند بن کر ان کے سامنے آیا ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader