سچائی کی فتح
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
کی مذہبی کتاب قرآن میں یہ حکم ہے کہ کسی معاملہ میں کسی کے پاس گواہی ہو تو وہ اس کو پیش کرے، وہ ہرگز اس کو نہ چھپائے۔ اب مولانا محمود بخش کاندھلوی مجسٹریٹ کی عدالت میں تشریف لائے۔ مجسٹریٹ خیمہ کے اندر دروازہ کے پاس بیٹھ گیا۔ مولانا دروازہ کے پاس باہر کی طرف کھڑے ہوگئے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کی بڑی تعداد خیمہ کے باہر جمع تھی۔ ہر ایک ملے جلے جذبات کے ساتھ منتظر تھا کہ دیکھیے آج کیا پیش آتا ہے۔ اندر بیٹھے ہوئے مجسٹریٹ نے بلند آواز سے پوچھا کہ مولانا محمود بخش صاحب یہ بتائیے کہ یہ تنازعہ جگہ ہندوؤں کی ہے یا مسلمانوں کی ہے۔ مولانا نے فرمایا کہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ جگہ ہندوؤں کی ہے، مسلمانوں کا دعویٰ اس کے بارہ میں غلط ہے۔ مجسٹریٹ نے مولانا محمود بخش صاحب کے اسی بیان پر اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ زمین ہندوؤں کو مل گئی۔ یہ زمین کاندھلہ کی موجودہ جامع مسجد کی جنوب مشرقی دیوار سے ملی ہوئی ہے۔ ہندوؤں نے مجسٹریٹ کے فیصلہ کے فوراً بعد یہاں مندر تعمیر کر دیا، اب بھی اس جگہ پر مندر موجود ہے۔ مسلمان کچہری سے اس حال میں واپس ہوئے کہ ان کے چہرے اداس تھے اور ان کے دلوں میں شکست کا احساس چھایا ہوا تھا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ "مولوی نے قوم کو غیروں کے سامنے رسوا کر دیا"۔ مسلمانوں کو معلوم نہ تھا کہ قانون کی عدالت کا فیصلہ اگرچہ ہو چکا ہے مگر اخلاق کی عدالت کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ مولانا محمود بخش کی اس سچائی اور بے لاگ حق پرستی کا ہندوؤں پر بہت اثر پڑا ۔ وہ مولانا کی سچائی کے واقعہ میں اس دین کی سچائی کو دیکھنے لگے جس نے ان کے اندر یہ زبردست قوت پیدا کی کہ وہ ایک نہایت نازک قومی معاملہ میں بھی انصاف سے نہیں ہٹے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کاندھلہ کے کئی ہندو خاندان اسلام سے متاثر ہوئے اور مولانا محمود بخش کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئے۔ ان نو مسلم خاندانوں میں سے ایک گھرانہ ۱۹۴۹ تک کاندھلہ میں موجود تھا جو تقسیم کے بعد پاکستان چلا گیا۔ مسلمان اپنا مقدمہ ہار گئے مگر اسلام اپنا مقدمہ جیت گیا۔ دو شخصوں یا گروہوں میں جب بھی کوئی نزاعی معاملہ پیش آتا ہے تو عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ ہر ایک کی نظر مفاد اور مصلحت کی طرف چلی جاتی ہے جس چیز میں بظاہر فائدہ نظر آئے، جو قومی وقار کے مطابق ہو ۔ جس میں دنیوی سر بلندی حاصل ہوتی ہو، آدمی بس اسی کی طرف جھک جاتا ہے۔ مگر حقیقی کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ معاملہ کو حق اور ناحق اور انصاف اور بے انصافی کی نظر سے دیکھا جائے ۔ جو طریقہ حق کے مطابق ہو اس کو اختیار کر لیا جائے اور جو طریقہ حق کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دیا جائے ۔ یہ اصولی موقف ہے اور اس دنیا میں بالآخر اصولی موقف کامیاب ہوتا ہے نہ کہ افادی موقف ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader