Urdu book · ایمانی طاقت

زندہ رہنمائی

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

زندہ رہنما ئی اسلام انسان کے لئے خدا کی ابدی رہنمائی ہے۔ اسلام کی صورت میں خدا نے وہ تمام بنیادی اصول بتا دئے ہیں جو انسان کو موجودہ دنیا کی زندگی میں سچائی اور انصاف پر قائم رکھنے والے ہیں۔ اسی کے ساتھ یہ مزید انتظام کیا گیا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگیوں کے ذریعہ ان اصولوں کا مکمل عملی نمونہ بھی ایک شان دار تاریخ کی صورت میں ہمارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ اسلام کی یہ تاریخ ہر موڑ پر ایک زندہ رہنما کی طرح کھڑی ہوئی ہر آدمی کو بتا رہی ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ ایک غریب مسلمان دن بھر کی محنت کے بعد شام کو اپنے گھر واپس آیا۔ اس کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس کی بیوی کھانا لائی تو وہ صرف ارہر کی دال اور جو کی روٹی تھی۔ مسلمان اس کو دیکھ کر جھنجھلا اٹھا کہ دن بھر کی محنت کے بعد ہم کو یہی کھانا ملا ہے اور کتنے لوگ بغیر محنت کے عمدہ عمدہ کھانا کھا رہے ہیں۔ مگر معاّ بعد اس کو خیال آیا کہ خدا کے محبوب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کا کھانا تو اس سے بھی زیادہ معمولی ہوتا تھا۔ یہ خیال آتے ہی اس کے جذبات ٹھنڈے پڑ گئے ۔ انسانوں کے درمیان معاشی اونچ نیچ اس کو اصل مسئلہ کی نسبت سے غیر اہم نظر آنے لگی۔ اس نے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنا کھانا کھا لیا اور رات کی نماز پڑھ کر سو گیا۔ دنیا کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی چلتے چلتے سیدھے راستہ کے ادھر اُدھر بھٹک جاتا ہے۔ وہ اہم اور غیر اہم کے فرق کو بھول جاتا ہے۔ اس کی نظر اصل نشانہ سے ہٹ کر دقتی چیزوں میں الجھ جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر اسلام کی تاریخ رسی آدمی کے لئے ایک معیار کا کام دیتی ہے۔ وہ زندہ نمونوں کے ذریعہ آدمی کی صحیح کرتی رہتی ہے۔ ایک "عام" آدمی بھی اس میں اپنا سبق پا سکتا ہے اور ایک "خاص" آدمی بھی ۔ ۳ مئی ۱۹۶۹ کو سابق صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین کی اچانک وفات ہوئی تو مسٹر وی وی گری نائب صدر تھے۔ اس کے بعد دستور ہند کے مطابق وہ قائم مقام صدر ہو گئے۔ تاہم جلد ہی انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفادے دیں اور صدارتی الکشن کا مقابلہ کریں۔ ان کے استعفا کے بعد جو قانونی صورت پیدا ہوئی اس کے مطابق جناب محمد ہدایت اللہ (پیدائش ۱۹۰۵) ہندوستان کے ایکٹنگ صدر مقرر ہوئے جو اس وقت ہندستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔ ان کی صدارت ۳۵ دن (۲۰ جولائی تا ۲ اگست ۱۹۶۹) جاری رہی۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ کے صدر کی حیثیت سے جناب محمد ہدایت صاحب کو جو تجربات ہوئے ان کو انھوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری (My Own Boswell) میں درج کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک واقعہ بڑا سبق آموز ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page