Urdu book · ایمانی طاقت

قناعت

Urdu book, p. 38

By Maulana Wahiduddin Khan

قناعت مولانا حمید الدین فراہی (۱۹۳۰-۱۸۶۳ء) ایک مخلص عالم تھے۔ ابتدا ءً وہ علی گڑھ اور حیدر آباد کی یونیورسٹیوں میں استاد رہے۔ آخر عمر میں وہ مدرسہ الاصلاح (سرائے میر اعظم گڑھ) میں مقیم ہو گئے اور قرآن اور تعلیم دین کی خدمت کرتے ہوئے عمر گزار دی ۔ مولانا عبد الماجد دریا بادی نے ان کی وفات کے بعد جو مضمون لکھا اس کا ایک ٹکڑا یہ تھا : سادہ کھاتے ، سادہ پہنتے ، دنیا سے بہ قدرِ ضرورت لیتے کھانا کھارہے ہیں، دسترخوان پر صرف دال اور روٹی ہے دال میں نمک کم ہے بلا کسی ناخوشی کے اوپر سے نمک ملایا اور چہرہ تک سے ناگواری نہ ظاہر ہونے دی۔ دوسرے دن پھر وہی کھانا آج نمک بہت زائد ہو گیا ہے اسی انداز سے اٹھئے اور آج پانی ملا کر پھر اس ناخوش گوار کو خوش گوار بنا لیا شریک طالب علم کچھ جھنجلائے، کچھ دنگ رہ گئے منہ سب نے بنایا فرمایا بھائی بات کچھ نہیں ایک چٹنی تیار رکھو بغیر پیسہ کو مڑی کے خرچ سے تیار ہو جاتی ہے۔ جس کھانے میں ملا لو گے۔ مزہ دار ہو جائے گا۔ چٹنی کا نام ہے قناعت ! قناعت محض ایک درویشانہ عادت نہیں۔ دو زندگی کی ایک زبردست حقیقت ہے۔ قناعت دراصل اس پختہ مزاجی کا نام ہے کہ آدمی ان حالات کے ساتھ موافقت کر کے رہ سکے جن کو وہ بدل نہیں سکتا۔ موجودہ دنیا میں اس مزاج کی ضرورت ایک عام آدمی کو بھی ہوتی ہے اور ایک بادشاہ کو بھی ۔ عام آدمی کو اگر یہ نعمت حاصل ہو جائے تو وہ اپنے بے مزہ سالن کو ہنسی خوشی کھا کر اپنے کام میں لگ جائے گا ، نہ کہ وہ اس پر غصہ ہو کر اپنے وقت اور اپنی طاقت کو خواہ مخواہ برباد کرے ۔ اسی طرح اگر " بادشاہ " کو یہ نعمت مل جائے تو وہ عوام کے جمہوری رجحانات سے موافقت کر کے اپنی بادشاہت کو دیر تک باقی رکھ سکتا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ عوامی تقاضوں سے لڑنے لگے اور بالآخر اپنے تخت و تاج کو کھو دے ۔ قناعت اکثر نفسیاتی امراض کا علاج ہے۔ امریکہ کے ایک شخص نے اندیشے (Fears) کے بارے میں معلومات جمع کیں بہت سے لوگوں سے مل کر اس نے پوچھا کہ آپ کو کس قسم کے اندیشے لاحق ہوئے اور ان کا انجام کیا رہا۔ تحقیق کے بعد اس نے پایا کہ بیشتر اندیشے ایسے تھے جو صرف اندیشے ثابت ہوئے، وہ کبھی واقعہ نہیں بنے۔ حالاں کہ ان لوگوں نے اپنے ان امکانی اندیشوں کے غم میں اپنی صحبتیں برباد کر لیں اور دوسرے بہت سے نقصانات کر ڈالے ۔ " اندیشہ " ہر آدمی کا سب سے بڑا مسلہ ہے۔ ہر آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے طرح طرح کے اندیشوں میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page