Urdu book · ایمانی طاقت

زندہ رہنمائی

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۵ اگست ۱۹۴۹ کو راشٹر پتی بھون کے مغل گارڈن میں یوم آزادی کی تقریب تھی۔ محمد ہدایت اللہ صاحب بحیثیت صدر روایتی جلوس کے ساتھ راشٹر پتی بھون سے نکلے۔ اعلیٰ فوجی افسران، اے ڈی سی کا عملہ، صدارتی باڈی گارڈ سب جلو میں چل رہے تھے۔ ان کا پر شوکت یونیفارم اور منظم انداز میں حرکت کرنا راشٹر پتی بھون کے شاہانہ ماحول میں عجیب شان دار منظر پیش کر رہا تھا۔ محمد ہدایت اللہ صاحب کہتے ہیں کہ اپنے گرد یہ شان و شوکت دیکھ کر مجھے کسی قدر فخر کا احساس ہونے لگا: I felt a little pride (p. 245) مگر اگلے ہی لمحہ ان کو فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا وہ واقعہ یاد آ گیا جو معمولی فرق کے ساتھ تاریخ کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ شام وفلسطین کی جنگ کے آخری مرحلہ میں عیسائیوں نے پیش کش کی کہ وہ ہتھیار ڈالنے کے لئے تیار ہیں بشرطیکہ خلیفہ اسلام خود سفر کر کے یہاں آئیں۔ خلیفہ دوم ایک اونٹ اور ایک غلام کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ دمشق کے قریب جابیہ کے مقام پر پہنچے تو ابو عبیدہ بن الجراح اور خالد بن ولید اور اسلامی فوج کے دوسرے سرداروں نے آپ کا استقبال کیا۔ جابیہ میں کئی دن تک قیام رہا اور عیسائیوں سے گفتگو کے بعد یہیں معاہدہ لکھا گیا۔ معاہدہ کی تکمیل کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیت المقدس کے لئے روانہ ہوئے۔ آپ کے جسم پر پرانے نہایت معمولی کپڑے تھے۔ آپ کی سواری ایک دبلی اوٹنی تھی۔ چنانچہ لوگوں نے آپ کی خدمت میں نیا کپڑا اور ترکی نسل کا عمدہ گھوڑا پیش کیا اور اصرار کیا کہ آپ اوٹنی کو چھوڑ دیں اور اسی گھوڑے پر سفر کر کے جائیں۔ آپ گھوڑے پر سوار ہوئے تو وہ عجیب شان کے ساتھ چلنے لگا۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اتر گئے اور کہا کہ میری اونٹنی لاؤ، میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہا: میرے دل میں بڑائی کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی بڑائی کا جذبہ ہو وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ محمد ہدایت اللہ صاحب کو جب یہ واقعہ یاد آیا تو ان کے دل کی کیفیت بدل گئی۔ اس وقت ان کا جو حال ہوا اس کو وہ ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں ـــ مجھے اپنے اوپر شرم آنے لگی۔ میں نے اسی وقت اس احساس کو اپنے اندر سے نکال دیا اور دوسری چیزوں کے بارے میں سوچنے لگا: I felt ashamed of myself and put aside the feeling at once and begun thinking of other things. (246) اسلامی تاریخ ہر آدمی کے لئے ایک زندہ نمونہ ہے۔ وہ ہر موقع پر آدمی کو متوازن بناتی ہے۔ اسلامی تاریخ کے اندر کسی ”بادشاہ“ کے لئے بھی اتنی ہی رہنمائی ہے جتنی ایک ”معمولی انسان کے لئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page