Urdu book · ایمانی طاقت

ایمانی طاقت

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم اللہ الرحمن الرحیم دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ کو محوری طاقتوں کے مقابلہ میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ مگر “ فریڈم ایٹ ڈ نائٹ “ کے مصنف کے الفاظ میں جنگ کے بعد برطانیہ کے پاس اتنا تیل بھی نہ تھا کہ وہ اپنی فتح کی خوشی میں چراغ جلا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ میں فتح پانے کے باوجود وہاں یہ انقلاب آیا کہ ایک طرف اندرونی طور پر فاتح چرچل کی حکومت ختم ہوگئی اور دوسری طرف برطانیہ کو اپنے نو آبادیاتی علاقوں کو آزادی دینے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔ یہی معاملہ فرد کے لئے بھی ہے اور یہی قوم کے لئے بھی۔ جنگ، ہتھیاروں سے لڑی جاتی ہے۔ مگر ہتھیار صرف تباہی لاتے ہیں، وہ کبھی کوئی صالح نتیجہ پیدا نہیں کرتے۔ ہتھیار کی طاقت کا حصول ہمیشہ اپنی بربادی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ مزید اس اضافہ کے ساتھ کہ ہتھیاروں کے ذریعہ جیتنے والا بھی اتناہی ہارتا ہے جتنا ہارنے والا ۔ کیونکہ جب لڑائی ختم ہوتی ہے تو دونوں فریق تباہ ہو چکے ہوتے ہیں۔ مگر یہاں ایک اور ہتھیار ہے ۔ اس کی طاقت زیادہ ہے اور اس کی فتح بھی یقینی ۔ یہ ہے ایمان و یقین کی طاقت۔ اخلاق انسانیت کی طاقت، اصول و نظریات کی طاقت۔ اس کی قوت بے پناہ ہے۔ اس کی مار ہمیشہ بے خطا ہوتی ہے۔ اس سے آدمی کے اندر وہ ہمت پیدا ہوتی ہے کہ بظاہر خالی ہاتھ ہو کر بھی اپنے حریف سے کامیاب مقابلہ کر سکے۔ یہ ایک ایسی تسخیری قوت ہے جو دشمن کو اپنا دوست بنا لیتی ہے، جو غیر کو اپنے اثاثہ میں شامل کر لیتی ہے۔ جنگ و مقابلہ کے طریقہ میں ہتھیار استعمال ہوتے ہیں اور ایمان اور اخلاق کے طریقہ میں صبر صبر یہ ہتھیار والی لڑائی کا ہتھیار ہے۔ عام طور پر ایسا ہے کہ جب کسی کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات سامنے آتی ہے تو آدمی صرف ایک بات سوچتا ہے ــ ”یہ ہمارا مخالف ہے اس کو کچل ڈالو“ اور پھر ہر ایک اپنی طاقت اور حالات کے بقدر دوسرے کو کچلنے کی کارروائی شروع کر دیتا ہے۔ مگر یہ انسان کے امکانات کا بہت ناقص اندازہ ہے۔ خدا نے انسان کی نفسیات میں یہ حد لچک رکھی ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان کبھی ایک حالت پر قائم نہیں رہتا۔ وہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے۔ اسی لئے قرآن و حدیث میں صبر کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ صبر کسی بے عملی کا نام نہیں۔ صبر کا مطلب وقتی تلخیوں کو برداشت کر کے مستقبل کے انسان کا انتظار کرنا ہے۔ ہر آدمی کے اندر ہمیشہ ایک اور انسان چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اور صابرانہ طریقہ اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس آنے والے وقت کو آنے کا موقع دیا جائے جب کہ ”آج“ کے انسان کے اندر چھپا ہوا ”کل“ کا انسان برآمد ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page