Urdu book · ایمانی طاقت

خدا کا اعتماد سب سے بڑا اعتماد

Urdu book, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کا اعتماد سب سے بڑا اعتماد دوسری جنگ عظیم میں جب اتحادی طاقتوں نے بالآخر جرمنی کو شکست دے دی تو تمام نازی لیڈروں کو اسی برلن میں پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا جہاں وہ ساری دنیا کے قتل کا منصوبہ بنایا کرتے تھے یہ واقعہ اکتوبر ۱۹۴۶ کا ہے۔ ہٹلر اور گورنگ نے تو پہلے ہی خودکشی کر لی تھی۔ اس کے بعد ربن ٹراپ، کیٹل، کیلٹن برنر، الفریڈ روزن برگ، فرینک، ولہم فرک، جولییس، ساکل، جوڈل، ہس انکوائٹ اور دوسرے نازی لیڈر جو زندہ بچے تھے، ایک ایک کر کے ختم کر دئے گئے۔ یہ وہ لیڈر تھے جنھوں نے چالیس لاکھ یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور ان کی املاک پر قبضہ کر لیا تھا۔ انھوں نے ایک ایسی خونی جنگ چھیڑی تھی جس میں ان کے مفروضہ دشمنوں کے علاوہ خود جرمن قوم کے ۲۰ لاکھ سپاہی کام آئے۔ انھوں نے لاکھوں انسانوں کو بیکار کیمپوں (Concentration Camp) میں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے کے لئے مجبور کر دیا تھا۔ ان کی درندگی کا یہ عالم تھا کہ اپنے ملک کے بوڑھے، معذور اور بیمار لوگوں کو _ _ _ "جرمنی کے لئے بے فائدہ" قرار دے کر گولی سے اڑا دیتے۔ مقتول بچوں، لاشوں سے اٹے ہوئے گڑھوں اور بیواؤں اور یتیموں کے غول کو دیکھ کر بھی ان کا پتھر جیسا دل پسینہ نہیں جانتا تھا۔ مگر شکست کے بعد ان کا یہ حال ہوا کہ جب وہ پھانسی کے تختے کے سامنے لائے گئے تو ان کے چہرے زرد تھے۔ ان کی ٹانگیں لڑکھڑا رہی تھیں، وہ کچھ بولنا چاہتے تو معلوم ہوتا کہ زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی ہے۔ شعلہ بیان لیڈر گویا ئی کی طاقت کھو چکے تھے۔ جو دوسروں کی زندگیوں سے کھیلتے تھے وہ اپنے انجام کو دیکھ کر پاگل ہو گئے۔ جس بہادری کا انحصار صرف مادی سہارے پر ہو وہ اس وقت بزدلی میں تبدیل ہو جاتی ہے جبکہ مادی سہارا اس سے چھن جائے۔ البتہ جس کا اعتماد خدائے لازوال پر ہو، وہ ہر حال میں شجاعت و عزیمت کی چٹان بنا رہتا ہے۔ خواہ مادی سہارے اس کا ساتھ دے رہے ہوں یا اس قسم کے تمام خارجی سہاروں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ہو۔ اگر خدا کی مدد کا یقین دلوں میں زندہ ہو تو آدمی کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہو سکتا۔ وہ طاقت ور دشمنوں میں گھر کر بھی عزم و ہمت کی چٹان بنا رہے گا۔ قاتلوں اور غارت گروں کے ہجوم سے بھی وہ اس طرح زندہ سلامت نکل آئے گا جیسے وہاں کسی کا وجود ہی نہ تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page