توبہ نے طاقت ور بنا دیا
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
توبہ نے طاقت ور بنا دیا قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جادوگر جب فرعون کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے فرعون سے کہا: اگر ہم موسیٰ کے مقابلے میں غالب رہے تو ہم کو اس کا انعام تو ضرور ملے گا۔ فرعون نے کہا ہاں۔ اس کے بعد جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لکڑیاں پھینکیں جو دیکھنے والوں کو رینگتے ہوئے سانپ کی مانند نظر آنے لگیں۔ اب حضرت موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا۔ آپ کا عصا از رہا ہو کر کھو ما تو اس کا اثر یہ ہوا کہ جادوگروں کی ہر لکڑی لکڑی اور ہر رسی رسی ہو کر رہ گئی۔ جادوگر سمجھ گئے کہ موسیٰ نے جو چیز دکھائی ہے وہ جادو نہیں بلکہ خدائی معجزہ ہے۔ ان کا سینہ حق کے لئے کھل گیا۔ اور انہوں نے اسی وقت ایمان قبول کر لیا۔ فرعون غضب ناک ہو کر بولا: تم لوگ موسیٰ کے مومن بن گئے قبل اس کے کہ میں تم کو اس کی اجازت دوں۔ یہ تم لوگوں کی خفیہ سازش ہے۔ میں تمھارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹواؤں گا اور پھر تمام سب لوگوں کو سولی پر چڑھا دوں گا (اعراف) ۔ جادوگروں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے ہم کو پیدا کیا ہے، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ خدا کی روشن نشانیوں کے مقابلے میں ہم تم کو ترجیح دیں۔ تم جو کچھ کرنا چاہو کر لو۔ تم صرف اسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہو اور اللہ زیادہ اچھا ہے اور وہ باقی رہنے والا ہے (طہ) وہی جادو گر جو ابھی فرعون کے سامنے خوشامدی باتیں کر رہے تھے اور اس کے انعام اور اعزاز کے طالب تھے وہی تھوڑی دیر بعد اتنے دلیر اور بلند حوصلہ ہو گئے کہ فرعون کی انہیں کوئی پروا نہ رہی۔ حتی کہ فرعون کی طرف سے سخت ترین سزا کی دھمکی بھی انہیں مرعوب نہ کر سکی۔ وہ کیا چیز تھی جس نے جادوگروں کو اچانک پستی سے بلندی اور بزدلی سے بہادری تک پہنچادیا۔ وہ ایمان کی طاقت تھی۔ انھوں نے انسانوں سے گزر کر خدا کو پالیا تھا، پھر ان کو انسانوں کا ڈر کیوں ہوتا۔ شہر کے مسلم محلہ کو تخریب کاروں کے ایک غول نے گھیر لیا۔ مسلمان اپنے گھروں سے نکلے تو تخریب کاروں نے پتھر پھینکنے شروع کئے ۔ مسلمانوں نے بھی اس کے جواب میں پتھر پھینکے ۔ تخریب کاروں کو جب پتھراؤ سے کامیابی ہوتی نظر نہ آئی تو انھوں نے بندوقوں سے فائر کئے جس سے کچھ مسلمان زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد مسلمان بھاگے اور اپنے گھروں میں داخل ہو گئے۔ اب تخریب کاروں کا حوصلہ بڑھا۔ وہ آگے بڑھ کر محلہ میں گھس گئے اور مسلمانوں کے مکانوں اور دکانوں میں آگ لگانا شروع کر دیا۔ یہ بڑا نازک موقع تھا۔ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کریں۔ اب محلہ کے ایک بد نام شخص کو اللہ نے ہمت دی اور اس نے مسئلہ کو حل کر دیا۔ اس شخص میں اور کوئی برائی نہ تھی۔ البتہ وہ شراب پیتا تھا۔ وہ اپنے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader