توبہ نے طاقت ور بنا دیا
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
کمرہ میں داخل ہوا۔ اس نے تیمم کیا اور سجدہ میں گر پڑا۔ سجدہ کی حالت میں اس نے دعا کی : خدایا آج تو ہماری عزت رکھ لے اور ہماری مدد کر۔ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد میں کبھی شراب نہیں پیوں گا۔ اس نے یہ دعا کی اور اس کے بعد پڑوسی کی بندوق لی اور تھیلہ میں کار توس بھر کر مجھ میں لگ گیا۔ اس نے چن چن کر تخریب کاروں کو اپنی بندوق کا نشانہ بنانا شروع کیا۔ اگر چہ وہ خود بھی ہر وقت تخریب کاروں کے نشانہ کی زد پر تھا مگر اس وقت ڈر اس کے دل سے بالکل نکل گیا تھا۔ وہ پوری بے خوفی کے ساتھ اپنا کام کرتا رہا۔ تخریب کاروں نے جب دیکھا کہ ان کے بہت سے ساتھی خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں اور ”ہائے مار ڈالا“ کی چیخیں بلند ہو رہی ہیں تو ان کے حوصلے پست ہو گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ کی طرف پاکیزہ کلمات چڑھتے ہیں اور نیک عمل اس کو بلند کرتا ہے ( فاطر ۱۰ ) مذکورہ مسلمان کی دعا کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا۔ اس نے جب اپنی دعا کے ساتھ شراب چھوڑنے کا عہد کیا تو اس نے ایک نیک عمل کیا۔ اس نیک عمل کی وجہ سے اس کی دعا اوپر اٹھ کر فوراً خدا کی بارگاہ میں پہنچی اور مقبول ہوئی۔ جب بھی آدمی اپنی دعا کے ساتھ اس قسم کا کوئی نیک عمل کرے تو اس کی دعا ضرور قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے۔ دعا کے ساتھ اس کے موافق نیک عمل دعا کے معاملہ میں آدمی کے سنجیدہ ہونے کا ثبوت ہے، اور جب آدمی اپنی مانگ میں سنجیدہ ہو تو اس کی مانگ ضرور پوری کی جاتی ہے۔ اس واقعہ کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ جب آدمی نے یہ کہا کہ ”خدایا میں آج سے شراب کو چھوڑتا ہوں تو میری مدد کر“ تو اس نے اپنی طاقت کو بڑھایا۔ کیوں کہ اب اس نے خدا کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا تھا۔ اگر وہ صرف ”خدایا مدد کر“ کے الفاظ بولتا تو اس سے اس کے اندر وہ یقین نہ آتا۔ کیوں کہ یہ چھپا ہوا خیال پھر بھی اس کے دل میں باقی رہتا کہ میں خدا کو پکار رہا ہوں حالانکہ میں خدا کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ جب اس نے شراب چھوڑنے کا عزم کیا تو بھر پور طور پر اس کو یہ امید پیدا ہو گئی کہ اب خدا ضرور میری مدد کرے گا۔ کیونکہ اب اس نے اپنے اور خدا کے درمیان پڑے ہوئے پردہ کو ہٹا دیا تھا۔ پہلی صورت میں اس کی مثال اگر چور کی سی تھی تو اب اس کی مثال اس شخص کی سی ہو گئی جس نے سامان کی قیمت اس کے دکان دار کو ادا کردی ہو ۔ اس کی توبہ نے اس کو نڈر بنایا اور اس کی قوت میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔ توبہ کے فوراً بعد اس کے اندر سے احساسِ جرم نکل گیا۔ اس کا یہ اندیشہ مٹ گیا کہ میں خدا سے دور ہوں ۔ اب وہ خدا کی مدد کو اپنے حق میں یقینی سمجھنے لگا۔ اس کے اور خدا کے درمیان جو رکاوٹ تھی جب اس رکا وٹ کو اس نے دور کر دیا تو اندیشوں کے تمام غبار اس کے دل سے ہٹ گئے ۔ خدا اس کو اپنا نظر آنے لگا، کیوں کہ وہ اپنے آپ کو خدا کا بنا چکا تھا۔ الہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader