Urdu book · ایمانی طاقت

اخلاق کی طاقت

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

اخلاق کی طاقت ۱۹۳۳ کا واقعہ ہے۔ فتح گڑھ (اتر پردیش) کے علاقہ میں سکھوانا میڈاکو نے سنسنی پھیلا رکھی تھی۔ اس کی لوٹ مار بے پناہ ہوتی جارہی تھی۔ پولیس کے افراد تک کے لیے ممکن نہیں رہتا تھا کہ اس کی گولیوں کا نشانہ بننے سے بچ سکیں۔ مگر عین اس زمانہ میں بھی ایک اعلیٰ انتظامی افسر اس کی فہرست سے مستثنیٰ تھا۔ یہ سید صدیق حسن آئی سی ایس (وفات ١٩٦٣) تھے۔ صدیق حسن صاحب اس زمانہ میں فتح گڑھ میں جوائنٹ مجسٹریٹ تھے۔ سکھوا ڈاکو کے خلاف پولیس کی مہم انھیں کی ماتحتی میں چلائی گئی۔ مہینوں کی جدوجہد کے بعد سکھوا ڈاکو گرفتار ہوا اور صدیق حسن صاحب نے اس کے مقدمہ کی سماعت کر کے اس کو سزا کا حکم سنایا۔ مگر عین اس زمانہ میں جب کہ صدیق حسن صاحب سکھوا ڈاکو کے خلاف مہم کی قیادت کر رہے تھے، سکھوا ڈاکو نے ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ گرفتاری کے بعد اس نے بتایا کہ وہ اکثر رات کو صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر آتا تھا۔ مگر ان کی شرافت کا خیال کر کے کبھی ان پر گولی نہیں چلائی۔ سید صدیق حسن صاحب کی وہ کیا بات تھی جس کی وجہ سے ایک ڈاکو بھی ان کی تعریف اور عزت کرتا تھا۔ اس کا اندازہ ایک واقعہ سے ہوتا ہے جو خود سکھوا ڈاکو نے بتایا۔ اس نے کہا کہ ایک بار پولیس والے اس کو گرفتار کر کے سید صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر لائے۔ یہ سردی کا زمانہ تھا۔ سکھوا نے صدیق حسن صاحب سے کہا: ”جینٹ صاحب آپ کا سکھوا سردی کھار ہا ہے“ یہ سن کر صدیق حسن صاحب فوراً اندر گئے اپنی نئی ریشمی قمیض اور کمبل لائے اور اس کو ڈاکو کے حوالے کرتے ہوئے کہا: ”لو اس کو استعمال کر دو یہ تمھارے لیے ہے (عامل ۱۹۶۸) کوئی شخص خواہ کتنا ہی نہتا ہو اس کے پاس ایک ایسا ہتھیار موجود رہتا ہے جس سے وہ اپنے حریف کو جیت سکے۔ یہ اخلاق کا ہتھیار ہے۔ ایک حکیم صاحب تھے۔ وہ شہر میں مطب کرتے تھے اور ہفتہ میں ایک دن اپنے گاؤں آیا کرتے تھے۔ ان سے ان کے گاؤں کے بعض لوگوں کو دشمنی ہوگئی۔ انھوں نے ایک آدمی کو چند سو روپے دے کر کہا کہ رات کو جب حکیم صاحب واپس آرہے ہوں تو ان کو پکڑ کر مار ڈالو۔ غریب آدمی روپیے کے لالچ میں تیار ہو گیا اور گاؤں کے باہر پل کے پاس چھپ کر بیٹھ گیا۔ حکیم صاحب پل کے پاس پہنچے تو وہ جھپٹ کر سامنے آگیا۔ حکیم صاحب اس کو دیکھتے ہی پہچان گئے۔ جب ان کو معلوم ہوا کہ وہ ان کو مارڈالنا چاہتا ہے تو انھوں نے کہا کہ ذرا ٹھہر دو۔ اس کے بعد انھوں نے کہا ”کیا تم کو وہ دن یاد نہیں جب تم اپنے چھوٹے بچے کو ٹوکرے میں رکھ کر میرے پاس لائے تھے۔ بیماری نے اس کا برا حال کر دیا تھا اور تمھارے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں تھے۔ میں نے تمھارے لڑکے کا مفت علاج کیا اور وہ اچھا ہو گیا۔ کیا میرے اس احسان کا بدلہ وہی ہے جو تم اب میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو۔“ یہ سنتے ہی آدمی نے اپنی لاٹھی پھینک دی اور حکیم صاحب کے پاؤں پر گر پڑا۔ اس نے کہا: ”آپ نے سچ کہا۔ میں روپے کے لالچ میں آپ کو مارنے کے لئے تیار ہو گیا تھا۔ مگر اب میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ آپ مجھے معاف کردیں۔“ ایک جانور کو کسی قسم کی اخلاقی دلیل حملے کرنے سے روک نہیں سکتی۔ مگر انسان کو جیتنے کے لئے ایک اخلاقی دلیل بھی کافی ہے بشرطیکہ وہ حقیقی معنوں میں ایک اخلاقی دلیل ہو نہ کہ محض الفاظ کا ایک مجموعہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page