موت کے عقیدہ نے زندگی دے دی
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کے عقیدہ نے زندگی دے دی ایک نوجوان نے عربی مدرسہ سے فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد ان کا ارادہ مزید تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔ اسی دوران گھر سے ایک خبر آئی جس نے ان کے حوصلے ختم کر دئے۔ خبر یہ تھی کہ ان کے والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ان کے گھر پر معمولی کھیتی باڑی تھی۔ اسی میں محنت کر کے ان کے والد صاحب گھر کا کام چلاتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد گھر پر صرف ان کی بیوی تھیں اور چند چھوٹے بچے ۔ اب مذکورہ نوجوان ہی گھر کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کو اپنی ذمہ داری کا شدید احساس ہوا۔ والد صاحب کی وفات کا مطلب ان کے لئے صرف ایک تھا یہ کہ وہ مزید تعلیم کا ارادہ ترک کر کے اپنے گھر چلے جائیں اور اپنے والد صاحب کی طرح کھیتی باڑی کے کام میں لگ کر گھر کا انتظام سنبھال لیں ۔ مدرسہ میں ایک بزرگ سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ اس کے بعد وہ ان سے ملے اور کہا ”حضرت اب میں یہاں سے جا رہا ہوں اور آپ سے آخری ملاقات کے لئے آیا ہوں“ بزرگ نے کہا: ”آخر کیا بات ہے۔ کہاں جا رہے ہو ۔ انھوں نے بتایا کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور میں ہی اپنے گھر میں سب سے بڑا ہوں ۔ اس لئے اب مجھ ہی کو گھر کا انتظام سنبھالنا ہے۔ شاید قدرت کو یہی منظور ہے کہ میرے ہاتھوں میں ”قلم“ کے بجائے ”ہل“ ہو۔ بظاہر اب میرے لئے مزید تعلیم کا کوئی سوال نہیں۔ بزرگ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور پھر تھوڑی دیر کے بعد بولے: ”کیا موت آپ کے لئے نہیں ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ گھر پہنچ کر آپ کا انتقال نہیں ہو جائے گا۔ پھر اگر آپ کا بھی انتقال ہو گیا تو“ اس کے بعد بزرگ نے کہا کہ کسی گھر کا سنبھالنے والا کوئی ٹُوٹا نہیں ہوتا ۔ ہر گھر کا سرپرست اور کفیل اللہ تعالیٰ ہے کسی کے جینے مرنے سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ آپ اپنے تعلیمی منصوبہ کو جاری رکھئے اور گھر کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیجئے ۔ ”آپ تھوڑی دیر کے لئے سمجھ لیجئے کہ میرا بھی انتقال ہو گیا ہے “ یہ بات نوجوان کے دل کو لگ گئی ۔ انھوں نے گھر کا خیال چھوڑ دیا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کر کے اپنی تعلیمی جدوجہد شروع کر دی ۔ انھوں نے مدینہ کے جامعہ اسلامیہ میں درخواست بھیجی اور اس کے لئے ضروری کوششیں کرنے لگے۔ کوشش کامیاب رہی اور ان کا داخلہ جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں ہو گیا۔ انھوں نے مدینہ کا سفر کر کے جامعہ اسلامیہ میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد وہ سعودی عرب کے دار الافتاء کے تحت افریقہ کے ایک ملک میں مبلغ اور استاد کی حیثیت سے بھیج دئے گئے۔ ۱۱ اپریل ۱۹۸۰ کو ایک ملاقات میں انھوں نے راقم الحروف کو بتایا کہ افریقہ میں رہتے ہوئے اُن کو دس سال ہو چکے ہیں۔ اور ان کی موجودہ زندگی سے وہ اور ان کے گھر والے دونوں مطمئن ہیں۔ وہ اپنے کو ایک کامیاب انسان سمجھتے ہیں اور یہ کامیابی ان کو اس مختصر سے جملہ سے ہوئی کہ سمجھ لیجئے کہ آپ کا بھی انتقال ہو گیا ہے موت کا عقیدہ بظاہر منفی عقیدہ ہے۔ مگر وہ اپنے اندر زبردست مثبت اثرات رکھتا ہے۔ جس کو موت کا یقین ہو، زندگی کے بارے میں اس کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ جو اپنے کو مرتا ہوا دیکھ لے وہ اپنی زندگی میں زیادہ باعمل ہو جاتا ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader