Urdu book · ایمانی طاقت

اسی سے تعمیر دنیا بھی

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

جھوٹ اور فریب کی اس کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ اس طرح جو شخص حقیقی معنوں میں آخرت پسند ہو جائے وہ اس کے لازمی نتیجہ کے طور پر محنت اور دیانت دار بن جاتا ہے۔ اور جس شخص کے اندر یہ دونوں خصوصیات پیدا ہو جائیں وہ صفر سے آغاز کر کے بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر سکتا ہے۔ اقتصادیات کی دنیا میں کسی کے سب سے بڑا سرمایۂ محنت اور دیانت داری ہے اور یہ دونوں چیزیں آخرت کے عقیدہ کا براہ راست نتیجہ ہیں۔ جس شخص کے اندر آخرت کا احساس ہو گا اس کے اندر لازمی طور پر محنت بھی ہوگی اور دیانت داری بھی۔ اس کی ایک واضح مثال صحابہ و تابعین کا گروہ ہے۔ یہ لوگ اپنے وطن سے بے سر و سامانی کی حالت میں نکلے، مادی وسائل کے اعتبار سے کوئی چیز ان کے پاس نہ تھی۔ اس کے باوجود انھوں نے اپنے وقت کی تجارتوں پر قبضہ کر لیا، وہ ایشیا اور افریقہ سے لے کر یورپ تک کی منڈیوں پر چھاگئے۔ ان کی اس اقتصادی کامیابی کا راز یہی دو چیزیں تھیں ــــــــ محنت اور دیانت داری۔ ۳۔ کسی قوم کی طاقت کا سب سے بڑا ذریعہ اتحاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اتحاد کا دوسرا نام طاقت ہے اور اختلاف کا دوسرا نام کمزوری۔ کسی گروہ کے افراد میں جب اتحاد ٹوٹتا ہے تو اس کی وجہ کیا ہوتی ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہوتی ہے اور وہ افراد کی انانیت ہے۔ اگر ہر فرد میں تواضع آجاۓ، ہر آدمی اپنی ’’ انا ‘‘ کو ختم کر چکا ہو تو وہاں اختلاف کا سرے سے خاتمہ ہو جائے گا۔ اور آخرت کا عقیدہ سب سے زیادہ یہی چیز پیدا کرتا ہے۔ جس شخص کے دل میں خدا کی ہیبت اور آخرت کا فکر بیٹھ جائے اس کے اندر سے گھمنڈ اور بڑائی کے تمام احساسات نکل جاتے ہیں۔ خدا کی پکڑ کا اندیشہ اس کو ایک بے ’’ میں ‘‘ والا انسان بنا دیتا ہے۔ یہی کیفیت اتحاد کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ جس قوم کے افراد سے گھمنڈ اور انانیت نکل جائے ان کے اندر سے گویا اختلاف کی جڑ ختم ہو گئی۔ ایسے لوگ سب سے زیادہ متحد قوم بن جاتے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں اتحاد سے بڑی کوئی دوسری طاقت نہیں۔ اس کی واقعاتی مثال اسلام کی تاریخ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جو لوگ تیار ہوئے وہ بہت زیادہ اللہ سے ڈرنے والے اور آخرت کی فکر کرنے والے تھے چنانچہ ان ابتدائی مسلمانوں میں بے پناہ اتحاد پایا جاتا تھا۔ اسی اتحاد کی طاقت سے انھوں نے اپنے سے زیادہ طاقت در اپنے سے زیادہ سامان والے دشمنوں کو مغلوب کر لیا۔ مگر بعد کے دور میں جو لوگ اسلام کی صفوں میں شامل ہوئے ان میں آخرت کا عقیدہ اتنا گہرا اور اتنا زندہ نہ تھا۔ چنانچہ ہر ایک یہ چاہنے لگا کہ اس کی بات مانی جائے، اس کی بڑائی تسلیم کی جائے، اس کے نتیجہ میں ایسا اختلاف پیدا ہوا کہ مسلمانوں کی طاقت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ وہ لوگ جواب تک کفر و شرک کا زور توڑنے میں لگے ہوئے تھے وہ خود آپس میں ایک دوسرے کو برباد کرنے میں لگ گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page