Urdu book · ایمانی طاقت

جب ذہن کے پردے ہٹ جائیں

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

جب ذہن کے پردے ہٹ جائیں ملک عبدالشکور بی اے (پیدائش ۱۹۳۴ء) دراصل (راجوری) کے رہنے والے ہیں۔ وہ سگریٹ کے عادی تھے اور روزانہ تین پیکٹ پی جاتے۔ ”سگریٹ پینا صحت کے لئے مضر ہے“، ”سگریٹ پینا اپنے کمائے ہوئے پیسے کو آگ لگانا ہے“، اس قسم کی کوئی بھی دلیل ان کو سگریٹ چھوڑنے پر آمادہ نہیں کرسکتی تھی۔ حتیٰ کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی اصرار کرکے پلاتے۔ چار پینے کے بعد وہ سگریٹ کا کش لینے کو اتنا ضروری سمجھتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے کہتے ”جو آدمی چائے پی کر سگریٹ نہ پئے اس کو چائے پینے کا حق نہیں۔“ مگر ایک چھوٹے سے واقعہ نے ان کی محبوب سگریٹ ان سے چھڑا دی۔ سگریٹ کے ٹکڑے جو دھینے کے بعد پھینکتے ان کو ان کا تین سالہ بچہ فاروق قیسر اٹھا لیتا اور منہ میں لگا کر پیتا۔ ملک عبدالشکور صاحب اس کو منع کرتے مگر وہ نہ مانتا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ بچے کی ماں نے سختی سے بچہ کو منع کیا تو بچے نے کہا: ”ابا بھی تو پیتے ہیں“، ملک عبدالشکور صاحب نے بچہ کی زبان سے یہ سنا تو ان کو سخت جھٹکا لگا۔ اگرچہ وہ دوسروں کے سامنے اپنی سگریٹ نوشی پر قصیدہ پڑھتے تھے مگر ان کا دل خوب جانتا تھا کہ سگریٹ پینا ایک بری عادت ہے جس کا انجام نہ صرف صحت اور پیسہ کی بربادی ہے بلکہ وہ اخلاق کو بھی بگاڑنے والا ہے۔ جب کوئی شخص ان سے سگریٹ چھوڑنے کو کہتا تو وہ اس کے خلاف لفظی دلائل کا انبار لگا دیتے ۔ مگر ان دلائل کی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ وہ اپنے ایک ”نشہ“ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے اور اس کے لئے بھی تیار نہ تھے کہ اپنی غلطی کو مان لیں۔ اس لئے وہ لفظی تاویلات کے سہارے اپنے کو حق بجانب ثابت کرتے تھے۔ وہ اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے تھے کہ سگریٹ کے خلاف کسی دلیل پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔ مگر جب سگریٹ کا سوال بچہ کی زندگی کا سوال بن گیا تو اچانک وہ سنجیدہ ہوگئے۔ ان کے ذہن سے وہ تمام پردے ہٹ گئے جنھوں نے ایک سادہ سی حقیقت کو سمجھنا ان کے لئے ناممکن بنا دیا تھا۔ جو شخص مضبوط دلائل کے آگے ہتھیار ڈالنے پر تیار نہ ہوتا تھا وہ ایک بچہ کے کمزور الفاظ کے آگے بالکل ڈھ گیا ۔ ”اگر میں خود سگریٹ پیتا رہوں تو میں اپنے بچہ کو سگریٹ پینے سے باز نہیں رکھ سکتا“، انھوں نے سوچا۔ بچہ کا یہ کہنا کہ ”ابا بھی تو پیتے ہیں“ ان کے لئے ایک ایسا ہتھوڑا بن گیا جس کی ضرب کو برداشت کرنے کی طاقت ان کے اندر نہ تھی ۔ بچہ کی زبان سے یہ الفاظ سن کر ان کو سخت جھٹکا لگا۔ انھوں نے ایک لمحہ کے اندر وہ فیصلہ کر لیا جس کے لئے ان کے دوستوں کی تہیئوں اور سالوں کی کوشش بھی ناکامی ثابت ہوئی تھی۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ انھوں نے طے کر لیا کہ وہ سگریٹ پینا بالکل چھوڑ دیں گے ۔ انھوں نے نہ صرف اگلے دن سگریٹ نہیں پی بلکہ مستقل طور پر سگریٹ نوشی ترک کر دی۔ باپ کو سگریٹ سے محبت تھی۔ مگر بیٹے سے اس سے زیادہ محبت تھی۔ اس نے بیٹے کی خاطر سگریٹ کو چھوڑ دیا۔ اسی طرح ہر آدمی کو اپنے مفادات اور مصلح سے محبت ہوتی ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ خدا کی محبت اتنی بڑھ جائے کہ اس کی خاطر آدمی دنیا کے مفادات اور مصالح کو قربان کر دے۔ (۲۰ ستمبر ۱۹۷۹ء)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page