اندھیرے کے بعد اجالا
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
اندھیرے کے بعد اجالا قبائلی نظام میں آدمی قبیلہ کی حمایت کے تحت زندگی گزارتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ابتدائی زمانہ میں اپنے چچا ابوطالب کی حمایت میں رہے جو قبیلہ بنو ہاشم کے سردار تھے۔ نبوت کے دسویں سال ابوطالب کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد قبائلی روایات کے مطابق ابولہب قبیلہ بنو ہاشم کا سردار مقرر ہوا۔ اس نے آپ کی حمایت سے انکار کر دیا۔ اب آپ نے ارادہ کیا کہ کسی دوسرے قبیلہ کی حمایت حاصل کر کے اپنا دعوتی کام جاری رکھیں ۔ اس غرض کے تحت آپ نے طائف کا سفر فرمایا۔ طائف مکہ کے جنوب مشرق میں ۶۵ میل کے فاصلہ پر ایک سرسبز و شاداب بستی تھی۔ وہاں آپ کے بعض رشتہ دار تھے۔ چنانچہ آپ اپنے خادم زید بن حارثہ کو لے کر طائف پہنچے۔ اس وقت وہاں کی آبادی میں تین ممتاز سردار تھے۔ عبدیا لیل، مسعود اور حبیب ۔ آپ ان تینوں سے ملے۔ مگر ہر ایک نے آپ کا ساتھ دینے یا آپ کی حمایت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے ایک شخص نے کہا: خدا نے اگر تم کو رسول بنایا ہو تو میں کعبہ کا پردہ پھاڑ ڈالوں۔ دوسرے نے کہا: خدا کو کیا تمھارے سوا کوئی نہ ملا تھا جس کو وہ رسول بنا کر بھیجتا۔ تیسرے نے کہا: خدا کی قسم میں تم سے بات نہیں کروں گا۔ اگر تم رسول ہو تو تمھارا جواب دینا گستاخی ہے اور اگر تم جھوٹے ہو تو میرے لئے مناسب نہیں کہ میں تم سے بات کروں (فقال لہ احد هم هو يُمَطَّ تُيابَ الكعبة إن كان الله ارسلك - وقال الآخر اما وَجَدَ اللهُ احداً ايرسله غيرك - وقال الثالث والله لا ا كلمك ابداً ۔ لئن كنت رسولاً من الله كما تقول لا نت اعظم خطراً من ان ارد عليك الكلام ولئن كنت تكذب على الله ما ينبغي لى ان اكلمك، سيرة ابن هشام جلد ۲ صفحه ۲۹) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غمگین ہو کر واپس ہوئے۔ مگر ان لوگوں نے پھر بھی آپ کو نہ بخشا۔ انھوں نے بستی کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ وہ گالیوں اور پتھروں سے آپ کا پیچھا کرتے رہے۔ آپ کے خادم زید بن حارثہ نے اپنے کمل سے آپ کو آڑ میں لینے کی کوشش کی۔ مگر وہ آپ کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اور آپ کا جسم لہو لہان ہو گیا۔ بستی سے کچھ دور جا کر عتبہ اور شیبہ دو بھائیوں کا انگور کا باغ تھا۔ یہاں پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی اور آپ نے اس باغ میں پناہ لی۔ آپ زخموں سے چور تھے اور اللہ سے دعا کر رہے تھے کہ خدایا میری مدد فرما، مجھے تنہا نہ چھوڑ دے۔ عتبہ اور شیبہ دونوں مشرک تھے۔ مگر جب انھوں نے آپ کا حال دیکھا تو ان کو آپ کے اوپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader