موت کے بعد زندگی
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
اجزاء مٹی میں مل چکے ہوں گے تو اس کو دوبارہ کس طرح مجسم کرکے کھڑا کیا جاسکتا ہے ۔ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ ایک زندہ انسان کی موت آتی ہے، وہ خاموش ہو جاتا ہے ، اس کی حرکت رُک جاتی ہے ۔ اس کی تمام صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں ۔ اس کے بعد وہ زمین کے نیچے دبا دیا جاتا ہے یا بعض قوموں کے رواج کے مطابق جلا کر دریا میں بہا دیا جاتا ہے ۔ کچھ دنوں کے بعد وہ ریزے ریزے ہو کر اس طرح زمین کا جزء بن جاتا ہے کہ پھر اس کا کوئی وجود ہمیں نظر نہیں آتا ایک زندہ انسان کو اس طرح ختم ہوتے ہوئے ہم روزانہ دیکھتے ہیں ۔ پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ انسان جو ختم ہو چکا ہے وہ دوبارہ کیسے موجود ہو جائے گا ۔ مگر ہمارا اصل وجود ہمارا یہ جسم نہیں ہے جس کو ہم بظاہر چلتا پھرتا ہوا دیکھتے ہیں ۔ بلکہ اصل وجود وہ اندرونی انسان ہے جو آنکھوں سے نظر نہیں آتا ۔ جو سوچتا ہے ، جو جسم کو متحرک رکھتا ہے ، جس کی موجودگی جسم کو زندہ رکھتی ہے اور جس کے نکل جانے کے بعد جسم تو باقی رہتا ہے مگر اس میں کسی قسم کی زندگی نہیں پائی جاتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کسی مخصوص جسم کا نام نہیں ہے بلکہ اس روح کا نام ہے جو جسم کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ جسم کے متعلق ہم کو معلوم ہے کہ یہ بہت سے انتہائی چھوٹے چھوٹے ریزوں سے مل کر بنا ہے ۔ جس کو زندہ خلیہ (Living cell) کہتے ہیں ۔ ہمارے جسم میں خلیوں کی وہی حیثیت ہے جو کسی مکان میں اس کی اینٹوں کی ہوتی ہے ۔ ہمارے جسمانی مکان کی یہ اینٹیں یا اصطلاحی زبان میں خلیے ہماری حرکت اور ہمارے عمل کے دوران میں برابر ٹوٹتے رہتے ہیں جس کی کمی ہم غذا کے ذریعے پوری کرتے ہیں ۔ غذا ہضم ہو کر یہی مختلف قسم کے خلیے بناتی ہے جو جسم کی ٹوٹ پھوٹ کو مکمل کر دیتے ہیں ۔ اس طرح انسان کا جسم مسلسل گھستا اور بدلتا رہتا ہے ۔ پچھلے خلیے ٹوٹتے ہیں اور نئے خلیے ان کی جگہ لے لیتے ہیں ۔ یہ عمل ہر روز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader