موت کے بعد زندگی
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر انسان جس کو آپ چلتا پھرتا دیکھتے ہیں وہ دراصل انسان کی شکل میں بے شمار ایٹم ہیں جو پہلے ہماری زمین اور ہماری فضا کے اندر نامعلوم وسعتوں میں پھیلے ہوئے تھے۔ پھر ہوا، اور پانی اور خوراک نے ان ایٹموں کو لاکر ایک انسانی وجود میں اکٹھا کر دیا اور اب ہم انہیں منتشر ایٹموں کے مجموعے کو ایک چلتے پھرتے انسان کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ یہی عمل دوبارہ ہوگا۔ ہمارے مرنے کے بعد ہماری زندگی کے اجزا ہوا اور پانی اور زمین میں منتشر ہو جائیں گے اور اس کے بعد جب خدا کا حکم ہوگا تو وہ اسی طرح اکٹھا ہو کر ایک وجود کی شکل میں مجتمع ہو جائیں گے جس طرح وہ پہلی بار مجتمع ہوئے تھے۔ ایک واقعہ جو ہو چکا ہے وہی اگر دوبارہ ظہور میں آئے تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے ۔ خود مادی دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ زندگی کو دوسری بار دُہرایا جا سکتا ہے ۔ ہر سال برسات میں ہم دیکھتے ہیں کہ زمین میں سبزہ اگتا ہے اور ہر طرف ہریالی پھیل جاتی ہے پھر گرمی کا زمانہ اس کے لیے موت کا پیغام بن کر آتا ہے اور ساری زمین خشک ہو جاتی ہے۔ جہاں سبزہ لہلہارہا تھا وہاں چٹیل میدان دکھائی دینے لگتا ہے ۔ اس طرح ایک زندگی پیدا ہو کر مر جاتی ہے۔ لیکن اگلی بار جب برسات کا موسم آتا ہے اور آسمان سے بارش ہوتی ہے تو وہی مرے ہوئے سبزے دوبارہ جی اٹھتے ہیں اور خشک زمین پھر سبزہ زار نظر آنے لگتی ہے ۔ اسی طرح انسان بھی مرنے کے بعد زندہ کیے جائیں گے ۔ ایک اور پہلو سے دیکھئے ۔ زندگی بعد موت کے بارے میں شبہہ اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنا تصور موجودہ جسمانی وجود کی شکل میں کرتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خارج میں جو ایک چلتا پھرتا جسم دکھائی دیتا ہے ، یہی اصل انسان ہے اور جب یہ سڑگل جائے گا اور اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader