Urdu book · انسان اپنے آپ کو پہچان

موت کے بعد زندگی

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

اس حقیقت کا صاف اشارہ موجود ہے کہ جسم فانی ہے مگر روح فانی نہیں ۔ بعض نادان لوگ یہ کہتے ہیں کہ زندگی اور موت نام ہے کچھ مادی اجزا کے اکٹھے ہونے اور پھر منتشر ہو جانے کا۔ ان اجزا کے ملنے سے زندگی بنتی ہے اور ان کے الگ ہو جانے سے موت واقع ہوتی ہے۔ اسی نظریہ کو چکبست نے ان لفظوں میں ادا کیا ہے: زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشان ہونا مگر یہ ایک ایسی بات ہے جس کا علم سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر زندگی محض عناصر میں ظہورِ ترتیب" کا نام ہے تو اس کو اس وقت تک باقی رہنا چاہیے جب تک عناصر کی یہ ترتیب موجود ہے اور یہ بھی ممکن ہونا چاہیے کہ کوئی ہوشیار سائنس داں ان عناصر کو یکجا کر کے زندگی پیدا کر سکے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والوں میں صرف وہی نہیں ہیں جن کو کوئی ایسا حادثہ پیش آئے جوان کے جسم کے ٹکڑے کر دے۔ بلکہ ہر حالت میں اور ہر عمر کے لوگ مرتے ہیں۔ بعض مرتبہ تو اچھے خاصے تندرست انسان کے دل کی حرکت یکایک اس طرح بند ہو جاتی ہے کہ کوئی ڈاکٹر بتا نہیں پاتا کہ ایسا کیوں ہوا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مرنے والے کا جسم اپنی سابقہ حالت میں لیٹا ہوتا ہے دوسرے لفظوں میں "عناصر کا ترتیبی ظہور" مکمل طور پر موجود ہے۔ مگر اس کے اندر جو روح تھی وہ نکل چکی ہے۔ سارے عناصر اسی خاص ترتیب کے ساتھ اب بھی موجود ہوتے ہیں جواب سے چند منٹ پہلے تھے مگر اس کے اندر زندگی موجود نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مادی عناصر کی ترتیب زندگی پیدا نہیں کرتی بلکہ زندگی اس سے الگ ایک چیز ہے جو اپنا مستقل وجود رکھتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page