موت کے بعد زندگی
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی لیبارٹری میں زندہ انسان نہیں بنایا جا سکتا اگر چہ جسم کی شکل ہر وقت بنائی جاسکتی ہے یہ معلوم ہو چکا ہے کہ زندہ جسم کے اجزا ر بالکل معمولی کیمیادی ایٹم ہوتے ہیں۔ اس میں کاربن وہی ہے جو ہم کا لک میں دیکھتے ہیں۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن وہی ہے جو پانی کی اصل ہے۔ نائٹروجن وہی ہے جس سے کرۂ ہوا کا بیشتر حصہ بنا ہے ۔ اور اسی طرح دوسری چیزیں ۔ مگر کیا ایک زندہ انسان محض معمولی ایٹموں کا ایک خاص مجموعہ ہے جو کسی غیر معمولی طریقے سے ترتیب دے دیا گیا ہے۔ یا وہ اس کے علاوہ کچھ اور ہے ۔ سائنس داں کہتے ہیں کہ اگر چہ ہم یہ جانتے ہیں کہ انسان کا جسم فلاں فلاں مادی اجزار سے مل کر بنا ہے ۔ مگر انہی اجزار کو یکجا کر کے ہم زندگی پیدا نہیں کر سکتے۔ دوسرے لفظوں میں ایک زندہ انسان کا جسم محض بے جان ایٹموں کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ وہ ایٹم اور زندگی دونوں ہے ۔ مرنے کے بعد ایٹموں کا مجموعہ تو ہمارے سامنے موجود رہتا ہے مگر زندگی اس سے رخصت ہو کر دوسری دنیا میں چلی جاتی ہے ۔ اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زندگی مٹنے والی چیز نہیں ہے ۔ بلکہ باقی رہنے والی چیز ہے ۔ اب ہم سمجھ سکتے ہیں کہ زندگی بعد موت کا نظریہ کس قدر عقلی اور فطری نظریہ ہے ۔ یہ حقیقت پکار رہی ہے کہ زندگی صرف وہی نہیں ہو سکتی جو موت سے پہلے نظر آتی ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی ہمیں زندہ رہنا چاہیے۔ ہماری عقل تسلیم کرتی ہے کہ یہ دنیا اور اس کی عمر فانی ہے مگر انسان ایک ایسا وجود ہے جو اس کے بعد بھی باقی رہتا ہے ۔ جب ہم مرتے ہیں تو در حقیقت مرتے نہیں بلکہ زندہ رہنے کے لیے دوسری دنیا میں چلے جاتے ہیں ۔ موجودہ زندگی ہماری مسلسل عمر کا محض ایک مختصر وقفہ ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader