دوسری دنیا
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
سابق شکل میں دُہرایا جا سکتا ہے ۔ اس مثال کے ذریعہ ہم دوسری دنیا کے مسئلے کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔ جس طرح ہمارے چاروں طرف ہوا کا ایک غلاف ہے ۔ اور ہماری ہر آواز منہ سے نکلتے ہی اس پر نقش ہو جاتی ہے ۔ حالاں کہ نہ ہم ہم کو اکو دیکھتے ہیں اور نہ اپنی آواز کے نقوش کو ۔ ٹھیک اسی طرح وہ دوسری دنیا بھی ہم کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ہماری نیتوں اور ارادوں کو مسلسل ریکارڈ کرتی جا رہی ہے ۔ اس کے پردے پر ہمارے اعمال کے نقوش ثبت ہو رہے ہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو جائیں گے ۔ گراموفون میں چابی بھری ہوئی ہو اور ریکارڈ اس کے اوپر گھوم رہا ہو تو سوئی رکھتے ہی ریکارڈ کی خاموش تختی یکایک اس طرح بول پڑتی ہے ۔ جیسے وہ اسی کی منتظر تھی کہ کوئی اس کے اوپر سوئی رکھے اور وہ اپنے اندر کی آواز کو نکالنا شروع کر دے ۔ اسی طرح ہمارے تمام اعمال کا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے اور جب کائنات کا مالک حکم دے گا تو سارا ریکارڈ اس طرح ہمارے سامنے آجائے گا کہ اس کو دیکھ کر آدمی بے اختیار کہے گا : مَالِہٰذَا الْکِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّا اَحْصٰھَا یہ کیسی کتاب ہے ۔ میرا چھوٹا بڑا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اس نے محفوظ نہ کر لیا ہو آخری بات اوپر میں نے جو کچھ بیان کیا ہے ۔ اب آخر میں پھر ایک بار اس کو اپنے ذہن میں دُہرا لیجیے ۔ آپ کی زندگی ایک نہایت طویل اور مسلسل زندگی ہے ۔ موت اس زندگی کی آخری حد نہیں ہے بلکہ وہ اس کے دوسرے دُور کی ابتدا ہے۔ موت ہماری زندگی کے دو مرحلوں کے درمیان حدّ فاصل قائم کرتی ہے ۔ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ کسان ایک فصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader