دوسری دنیا
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتی۔ عمل کی دونوں حیثیتوں کا یہ فرق خود اشارہ کر رہا ہے کہ دونوں قسم کا انجام کس طرح ظاہر ہونا چاہیے۔ یہ اس بات کا صریح اشارہ ہے کہ عمل کی پہلی حیثیت کا انجام اسی دنیا میں نظر آنا چاہیے جس کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور عمل کی دوسری حیثیت کا انجام اُس دنیا میں نظر آئے گا جو ابھی ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے۔ گویا جو کچھ ہے، یہی دراصل ہونا بھی چاہیے تھا۔ مگر یہ صرف عقلی امکان ہی کی بات نہیں ہے۔ کائنات کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ بالفعل یہاں دونوں قسم کے انجام پائے جاتے ہیں۔ ایسے بھی جنہیں ہم واقع ہونے کے بعد فوراً دیکھ لیں ۔ اور ایسے بھی جو اگرچہ ہماری آنکھوں کو نظر نہیں آتے مگر وہ ایک حقیقت کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔ کائنات میں ایسے غیر مرئی نتائج کا موجود ہونا صریح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ اسی قسم کے دوسرے غیر مرئی نتائج بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ کائنات کی تخلیق اپنے اندر ایسے نتائج کے ہونے کا اصرار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر آواز کو لیجئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ آواز نام ہے ایسی لہروں کا جن کو آنکھ کے ذریعہ دیکھا نہیں جاسکتا۔ جب ہم بولنے کے لیے زبان کو حرکت دیتے ہیں تو اس کی حرکت سے ہوا میں کچھ لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ انہیں لہروں کو ہم آواز کہتے ہیں ۔ آواز ایک طرح کا غیر مرئی نقش ہے جو ہماری زبان کے ہلنے سے ہوا میں پیدا ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص بولتا ہے تو اس کی آواز لہروں کی شکل میں نقش ہو جاتی ہے اور مستقل طور پر باقی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اب سے ہزاروں برس پہلے کسی انسان نے جو آواز اپنے منہ سے نکالی تھی۔ جو گفتگو یا تقریر کی تھی سب کی سب ہوا کے اندر لہروں کی شکل میں موجود ہے۔ اگرچہ آج ہم ان آوازوں کو نہیں دیکھتے اور نہ اسے سنتے ہیں۔ لیکن اگر ہمارے پاس ان کو گرفت کرنے والے آلات ہوں تو کسی بھی وقت ان کو بعینہ اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader