Urdu book · انسان اپنے آپ کو پہچان

دوسری دنیا

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

موت سے پہلے تیار کی ہے۔ ہر کسان جانتا ہے کہ اس کے گھر میں ٹھیک اتنا ہی غلہ آئے گا جتنی اس نے محنت کی ہے اور وہی چیز آئے گی جو اس نے بوئی تھی ۔ اسی طرح آخرت میں بھی آدمی کو اسی کے بقدر ملے گا جتنی اس نے جدوجہد کی ہے اور وہی کچھ ملے گا جس کے لیے اس نے کوشش کی ہو۔ موت کوشش کی مدت ختم ہونے کا آخری اعلان ہے اور آخرت اپنی کوششوں کا انجام پانے کی آخری جگہ ۔ موت کے بعد نہ دوبارہ کوشش کرنے کا موقع ہے اور نہ آخرت کبھی ختم ہونے والی ہے ۔ کتنا سنگین ہے یہ واقعہ ۔ کاش انسان موت سے پہلے اس حقیقت کو سمجھ لے کیوں کہ موت کے بعد سمجھنا کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ موت کے بعد ہوشیار ہونے کے معنی صرف یہ ہیں کہ آدمی اس بات پر افسوس کرے کہ اس نے ماضی میں کتنی بڑی غلطی کی ہے ۔ ایک ایسی غلطی جس کی اب کوئی تلافی نہیں ہو سکتی ۔ انسان اپنے انجام سے غافل ہے حالاں کہ زمانہ اس کو نہایت تیزی سے اس وقت کی طرف لیے جا رہا ہے جب فصل کٹنے کا وقت آ جائے گا ۔ وہ دنیا کے حقیر فائدوں کو حاصل کرنے میں مصروف ہے اور سمجھتا ہے کہ میں کام کر رہا ہوں ۔ حالاں کہ دراصل وہ اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کر رہا ہے ۔ اس کے سامنے ایک عظیم موقع ہے جس کو استعمال کر کے وہ اپنے لیے ایک ناقابل قیاس حد تک شاندار مستقبل بنا سکتا ہے ۔ مگر وہ کنکریوں سے کھیل رہا ہے ۔ اس کا رب اس کو اپنی جنت کی طرف بلا رہا ہے جو لامتناہی عزت اور آرام کی جگہ ہے ۔ مگر وہ چند دن کی جھوٹی لذتوں میں کھویا ہوا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں حاصل کر رہا ہوں حالاں کہ وہ صرف ضائع کر رہا ہے ۔ دنیا میں مکان بنا کرو وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی زندگی کی تعمیر کر رہا ہوں حالاں کہ وہ صرف ریت کی دیواریں اٹھار ہا ہے جو اسی لیے بنتی ہیں کہ بننے کے بعد منہدم ہو جائیں ۔ انسان اپنے آپ کو پہچان ۔ تو کیا کر رہا ہے اور تجھے کیا کرنا چاہیے ! (۶۰ ۱۹)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page