Urdu book · انسان اپنے آپ کو پہچان

سب سے بڑا مسئلہ

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

جاننا چاہتے ہیں۔ اگر آپ لوگوں کی مصروفیٹوں سے ، ان کے منہ سے نکلی ہوئی آوازوں سے ، ان کی مختلف حرکات وسکنات سے ان سوالات کا جواب معلوم کر سکیں تو اسی سے آپ کو اس سوال کا جواب بھی معلوم ہو جائے گا کہ آج کا انسان کس چیز کو اپنا اصل مسئلہ سمجھتا ہے اور کیا حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بازاروں کی چہل پہل اور مصروف ترین سڑکوں پر انسانوں کی مسلسل آمد و رفت پکار رہی ہے کہ آج کا انسان اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑ رہا ہے ۔ وہ آخرت کو نہیں بلکہ صرف دنیا کو حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اگر وہ خوش ہے تو اس لیے خوش ہے کہ اس کی دنیوی تمنائیں پوری ہو رہی ہیں ۔ اگر وہ غمگین ہے تو اس لیے غمگین ہے کہ اس کی دنیوی خواہشیں پوری ہوتی ہوئی نظر نہیں آتیں ۔ آج کی ضرورتیں ، آج کا آرام ، آج کی عزّت ، آج کے مواقع ، بس انہیں کو پالینے کا نام لوگوں کے نزدیک کامیابی ہے ۔ اور انہیں سے محروم رہنے کا نام لوگوں کے نزدیک ناکامی ۔ یہی وہ چیز ہے جس کے پیچھے سارا انسانی قافلہ بھاگا چلا جا رہا ہے ۔ کسی کو بھی آنے والے دن کی فکر نہیں۔ ہر شخص بس آج کے پیچھے دیوانہ ہو رہا ہے ۔ صرف بڑے بڑے شہروں کا یہ حال نہیں ہے بلکہ جہاں بھی چند انسان بستے ہیں اور کچھ چلتے پھرتے لوگ موجود ہیں ۔ ان سب کا یہ ہی حال ہے ۔ آپ جس کسی کو دیکھیے وہ اسی کے خیال میں ڈوبا ہوا نظر آئے گا۔ مرد ہو یا عورت ، امیر ہو یا غریب ، بوڑھا ہو یا جوان ، جاہل ہو یا عالم ، شہری ہو یا دیہاتی حتیٰ کہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی سب کے سب اسی ایک سمت میں بھاگے چلے جا رہے ہیں ۔ آج آدمی کی سب سے بڑی تمنا صرف یہ ہے کہ دنیا میں وہ جتنا کچھ حاصل کر سکتا ہے حاصل کرلے ، اسی کو وہ اپنے لیے ”کام “ سمجھتا ہے ۔ اسی کے لیے اپنے بہترین اوقات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page