سب سے بڑا مسئلہ
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
اور بہترین صلاحیتوں کو صرف کرتا ہے ۔ اسی کی فکر میں رات دن مشغول ہے ۔ حد یہ ہے کہ اگر ضمیر اور ایمان کو قربان کرکے یہ چیز ملے تو وہ اپنا ضمیر اور ایمان بھی اس دیوی کی نذر کرنے کے لیے تیار ہے ۔ وہ دنیا کو حاصل کرنا چاہتا ہے خواہ وہ جس طرح بھی ملے ۔ مگر اس طرح کی ہر کامیابی صرف دنیا کی کامیابی ہے ۔ آخرت میں وہ بالکل کام نہیں دے سکتی۔ جو شخص صرف اپنی آج کی دنیا بنانے کی فکر میں ہے اور آخرت کی طرف سے غافل ہے ۔ اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اپنی جوانی میں اپنے بڑھاپے کے لیے جمع نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ جب اس کی قوتیں جواب دے دیتی ہیں اور وہ کام کرنے سے معذور ہو جاتا ہے ۔ تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ میرے پاس مکان نہیں ہے مگر اب وہ اپنا مکان نہیں بنا سکتا۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے پاس موسموں سے بچنے کے لیے کپڑا اور بستر نہیں ہے مگر اب اس میں اتنی سکت نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے کپڑا اور بستر مہیا کر سکے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ اس کے کھانے کا کوئی انتظام نہیں ہے مگر اب وہ اپنے کھانے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا ۔ وہ حسرت کے ساتھ کسی دیوار کے سایہ میں چیتھڑا لپیٹے ہوئے پڑا رہتا ہے جس پر کتے بھونکتے ہیں اور لڑکے کنکر مارتے ہیں ۔ ہم اپنی آنکھوں سے اس طرح کی مثالیں دیکھتے ہیں جس سے ایک ہلکا اندازہ ہوسکتا ہے کہ آخرت کی کمائی نہ کرنے والے کے لیے آخرت کی زندگی کیسی ہوگی ۔ مگر اس کے باوجود ہمارے اندر کوئی کھلبلی پیدا نہیں ہوتی ۔ ہم میں کا ہر شخص صرف اپنے آج کی تعمیر میں مصروف ہے وہ اپنے کل کی کوئی فکر نہیں کرتا ۔ جنگ کے زمانے میں جب ہوائی حملے کا سائرن بجتا ہے اور اپنی مہیب آواز سے یہ اعلان کرتا ہے کہ " دشمن کے ہوائی جہاز آتشیں بموں کو لیے ہوئے غول در غول چلے آرہے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader