Urdu book · انسان کی منزل

سچائی کی تلاش

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی اسی طرح ناممکن ہے جس طرح وہ فلسفیوں کے لیے ناممکن ثابت ہوا تھا۔ چنانچہ انھوں نے فکری سوالات سے الگ کر کے صرف مادی چیزوں کی تحقیق تک اپنے آپ کو محدود کر لیا۔ اس طرح یہ واضح ہو گیا کہ سائنس کے ذریعے سچائی کی تلاش کا جواب پانا کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں۔ اس معاملے میں آخری دائرہ مذہب کا ہے۔ مذہب کا کام اصلاً یہی ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ سچائی کیا ہے، وہ کائنات کے اندر انسان کے مقام کو متعین کرے۔ مذاہب اسی لیے آئے کہ وہ انسان کو اس کے اس سوال کا جواب دیں۔ مگر مذاہب کی موجودہ صورت کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذاہب بعد کے دور میں تبدیلی اور تحریف کا شکار ہو گئے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ مذہب کا از سر نو مطالعہ کیا جائے ۔ مذہب کو اس کی حقیقی صورت میں از سر نو دریافت (re-discover) کیا جائے۔ سچائی کی تلاش کا جواب پانے کے لیے فلسفہ اور سائنس اور روحانیت فیل ہو چکے تھے۔ اس کے بعد صرف مذہب باقی رہ جاتا ہے جہاں اس سوال کا جواب دریافت کیا جائے۔ جو لوگ مذہب کو نہیں مانتے، اور جو لوگ مذہب کو مانتے ہیں دونوں ہی اس معاملے میں یکساں طور پر ایک مشترک مقام پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دونوں ہی کو یکساں طور پر یہ کرنا ہے کہ وہ مذہب کے ذریعے مطلوب سچائی کو از سر نو دریافت کریں۔ فرق صرف یہ ہے کہ منکر مذہب کے لیے یہ دریافت اگر ڈسکوری ہوگی تو مومن مذہب کے لیے وہ ری ڈسکوری کے ہم معنی ہوگی۔ مذہب سے مراد، مذہب کا مروّجہ فارم نہیں ہے۔ مذہب کا مروّجہ فارم دراصل مذہب کا کمتر فارم (reduced form) ہے۔ یہ مذہب کی وہ شکل ہے جو بعد کی نسلوں میں اُس وقت بنی جب کہ اہل مذہب زوال کا شکار ہو گئے۔ اب جو شخص کسی مذہبی سماج میں پیدا ہوتا ہے وہ مذہب کے نام سے اسی کمتر فارم کو جانتا ہے۔ وہ متعصبانہ حد تک اسی کمتر فارم سے مانوس ہو جاتا ہے۔ اس لیے مذہب کی اصل صورت کو جاننے کے لیے ضرورت ہے کہ آدمی تعصبات کے ان پرّدوں سے باہر آئے۔ وہ مذہب کے بگڑے ہوئے فارم سے گزر کر مذہب کی اصل صورت کو دریافت کرے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے مذہب کی ری ڈسکوری کہا ہے۔ اس ری ڈسکوری کے بغیر مذہب کی حقیقی اہمیت کو سمجھنا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page