Urdu book · انسان کی منزل

سچائی کی تلاش

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

سچائی کی تلاش ہر آدمی جو اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچنا شروع کرتا ہے، اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال آتا ہے کہ میں کون ہوں (Who am I) ۔ یہ سوال ہر عورت اور مرد کے ذہن میں موجود ہوتا ہے، خواہ شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر۔ افکار کی تاریخ (History of Thought) براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی تلاش کا دوسرا نام ہے۔ مختلف پہلوؤں سے تمام ذہن اسی حقیقت کی تلاش کرتے رہے ہیں کہ انسان کیا ہے، وہ کیسے پیدا ہوا۔ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے، موت سے پہلے کیا ہے اور موت کے بعد کیا، کامیاب کون ہے اور نا کام کون، حق کیا ہے اور باطل کیا۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کو حقیقت کی تلاش کہا جاتا ہے، اور حقیقت کی تلاش ہی تمام انسانوں کی توجہ کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے۔ یہ تلاش سب سے پہلے فلسفے کے ذریعے شروع ہوئی۔ مگر ہزاروں سال تک بڑے بڑے اہلِ دماغ کی محنت کے باوجود فلسفہ اس معاملے میں کسی مثبت جواب تک نہ پہنچا۔ وہ صرف اختلافی بحثوں کا علم بن کر رہ گیا۔ اسی طرح روحانیت (spirituality) کے میدان میں لمبی مدت تک کوشش جاری رہی، مگر یہ کوشش بھی عملاً نا کام ہو کر رہ گئی ۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ روحانی اشخاص مراقبے اور میڈیٹیشن کے ذریعے سچائی کو دُل کی دنیا‘‘ میں تلاش کرتے رہے۔ مگر اس معاملے میں انھیں کوئی کامیابی نہ ہوسکی۔ اس کی سادہ وجہ تھی کہ دل صرف گردشِ خون کا ایک آلہ تھا۔ حق کی معرفت یا سچائی کا شعور دل کے اندر سرے سے موجود ہی نہ تھا، پھر وہ تلاش کرنے والوں کو اس میں کہاں ملتا۔ یہی معاملہ سائنس کا ہے۔ سائنس کے علم نے موجودہ زمانے میں بہت زیادہ اہمیت حاصل کی۔ ابتدائی طور پر لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ سائنس سچائی کی تلاش کا جواب فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔ مگر جلد ہی سائنس نے اپنی تلاش اور جستجو کے دائرے کو محدود کر لیا۔ سائنس دانوں نے اپنی تحقیق کے دوران پایا کہ زندگی کے فکری اور نظریاتی سوالات کا جواب پانا ان کے لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page