Urdu book · انسان کی منزل

اسپرچولٹی اور اسپرچول ڈویلپمنٹ

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

نام ہے جب کہ انسان کی سوچ ، اس کے جذبات اور اس کا عمل ، سب خدا کے رنگ میں رنگ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ روحانیت ایک شعوری یافت ہے نہ کہ مبہم قسم کی کوئی وجدانی یافت۔ انسان کے اندر اعلیٰ ترین صفت ، شعور کی صفت ہے۔ انسان کے لیے صرف وہی چیز اہم ترین چیز بن سکتی ہے جس کی یافت اس کو شعوری سطح پر ہوئی ہو۔ شعور اور وجدان میں یہ فرق ہے کہ شعور ایک معلوم ذہنی حالت کا نام ہے جب کہ وجدان ایک مبہم قلبی حالت کا نام ہے۔ روحانیت کو ایک وجدانی تجربہ سمجھنا روحانیت کی تصغیر ہے۔ اعلیٰ روحانیت وہ ہے جو آدمی کے لیے ذہنی طور پر ایک معلوم تجربہ بن جائے۔ حقیقی روحانیت وہ ہے جو شعور کو متحرک کر کے حاصل ہو۔ وجدان کے تجربے میں اس قسم کی شعوری صفت نہیں پائی جاتی۔ اس دُورِ جَدِید کے رُجحانات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page