Urdu book · انسان کی منزل

اسپرچولٹی اور اسپرچول ڈویلپمنٹ

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بارے میں ایسی توجیہہ تلاش کرے جو مذکورہ شخص کے بارے میں اس کے منفی احساس کو ختم کرنے والی ہو۔ ایسا کرنا خود اپنی حفاظت کے لیے ضروری ہے۔ ہر انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ دوسرا شخص آپ کو درست نظر آنے لگے۔ بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی اپنی شخصیت مکمل طور پر مثبت شخصیت بن سکے۔ آپ کے حافظے میں کوئی ایک بھی منفی آئٹم باقی نہ رہے۔ آپ کا حافظہ صرف مثبت آئٹم کا ذخیرہ بن چکا ہو۔ اسپرچول ڈیولپمنٹ دراصل انٹلکچول ڈیولپمنٹ کا دوسرا نام ہے۔ انٹلکچول ڈیولپمنٹ کے عمل کا آغاز ذہن کی ری انجیئنرنگ سے ہوتا ہے۔ ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ ماحول کی نسبت سے مسلسل اس کی کنڈیشننگ ہوتی رہتی ہے۔ آدمی کا پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنے کنڈیشنڈ مائنڈ کی ڈی کنڈیشننگ کرے۔ یہی اس معاملے میں روحانی سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر آدمی فطری طور پر روحانی انسان ہی ہوتا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ربانی شخصیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اس کی روحانیت کو زندہ کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کی فطرت کے اوپر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹا دیا جائے ۔ ان مصنوعی پردوں کو ہٹانے کے بعد جو چیز باقی رہے گی وہ وہی ہوگی جس کو روحانی شخصیت یا ربانی شخصیت کہا جاتا ہے۔ انٹلکچول ڈیولپمنٹ سے مراد ذہن کی اُس استعداد کو زندہ کرنا اور اس کو ترقی دینا ہے جو اپنے خالق کا شعور لیے ہوئے ہے ۔ اسی شعورِ رب کو بیدار کرنے کا نام روحانیت ہے۔ روحانیت کوئی پر اسرار چیز نہیں، وہ فطرتِ انسانی میں چھپے ہوئے شعورِ خداوندی کو اُن فولڈ (unfold) کرنے کا دوسرا نام ہے۔ یہ مکمل طور پر ایک شعوری بیداری کا معاملہ ہے نہ کہ کسی قسم کے پر اسرار وجد کا مبہم تجربہ کرنے کا معاملہ۔ روحانیت وہی چیز ہے جس کو قرآن میں ربانیت (آل عمران (۷۹) کہا گیا ہے۔ یعنی خدا رخی زندگی گزارنا۔ خدا کو اپنی زندگی کا واحد مرکز و محور بنا لینا ۔ روحانیت اُس حالت کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page