Urdu book · انسان کی منزل

تقدیر انسانی

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دوران اُن کو ایک دولت مند امریکی کا پیغام ملا۔ اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ فوراً مجھ سے ملو۔ بلی گراہَم اپنا سفر ملتوی کر کے مذکورہ امریکی دولت مند کے پاس پہنچے۔ امریکی دولت مند کے گھر پہنچتے ہی اُن کو ایک علیحدہ کمرہ میں لے جایا گیا۔ یہاں مذکورہ امریکی دولت مند اُن کا انتظار کر رہا تھا۔ ملاقات ہوئی تو امریکی دولت مند نے بلی گراہَم سے کہا کہ تم دیکھتے ہو کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔ زندگی نے اپنی تمام معنویت کھودی ہے۔ میں جلد ہی ایک نامعلوم دنیا کی طرف چھلانگ لگانے والا ہوں۔ نوجوان! کیا تم مجھ کو امید کی ایک کرن دے سکتے ہو: یہ صرف ایک امریکی دولت مند کی کہانی نہیں، بلکہ یہ تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر آدمی خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ چھوٹا آدمی ہو یا بڑا آدمی۔ ہر شخص آخر کار اسی احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے لیے ایک پسندیدہ دنیا بنانا چاہتا ہے۔ وہ اپنا سارا وقت اس میں لگا دیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مختصر زندگی کا آخری وقت آ جاتا ہے اور وہ اس احساس مجبوری کے ساتھ اس دنیا سے چلا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ پانا چاہتا تھا اس کو وہ پا نہ سکا۔ ایسا کیوں ہے۔ اس وسیع کائنات میں انسان واحد مخلوق ہے جو اپنے سینے میں بے شمار خواہشیں (desires) رکھتا ہے۔ کیا یہ خواہشیں اسی لیے ہیں کہ وہ کبھی پوری نہ ہوں اور ہر انسان خود اپنی خواہشوں کے قبرستان میں دفن ہو کر رہ جائے۔ ہر عورت اور مرد کے ذہن میں خوابوں کی ایک دنیا بَسی ہوئی ہے۔ کیا سُہانے خوابوں کی یہ دنیا صرف اس لیے ہے کہ وہ محض خواب بن کر رہ جائے اور کبھی اُس کی تعبیر نہ نکلے۔ ہر انسان تمناؤں کا ایک باغ اپنے سینے میں اُگاتا ہے، مگر کسی انسان کو یہ خوشی نہیں ملتی کہ وہ اس خوبصورت باغ میں داخل ہو سکے۔ فطرت میں یہ تضاد کیوں ہے۔ انسان کے سوا وسیع کائنات میں ایسا تضاد کہیں موجود نہیں۔ نباتات، جمادات اور حیوانات کی پوری دنیا اس قسم کے تضاد سے مکمل طور پر خالی ہے۔ پھر یہ تضاد استثنائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page