انسان کی منزل
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
طور پر صرف انسان کی زندگی میں کیوں پایا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اور کائنات کی دوسری چیزوں کے درمیان ایک بے حد بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں— موت سے پہلے کا مرحلۂ حیات اور موت کے بعد کا مرحلۂ حیات۔ اس کے برعکس کائنات کی بقیہ تمام چیزوں کا صرف ایک مرحلہ ہے یعنی وجود میں آنا اور پھر ایک دن مٹ جانا، پیدا ہونا اور پھر مر کر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جانا۔ اصل یہ ہے کہ انسان جو کچھ اپنے پہلے مرحلۂ حیات میں پانا چاہتا ہے وہ اس کے لیے دوسرے مرحلۂ حیات میں مقدر کیا گیا ہے۔ اور جو چیز سفر حیات کے اگلے مرحلے میں ملنے والی ہو وہ سفر حیات کے ابتدائی مرحلے میں کبھی کسی کو نہیں ملتی۔ اس صورت حال کا سبب یہ ہے کہ انسان کے لیے فطرت کا ایک خصوصی قانون ہے جو اس کا ننات کی دوسری چیزوں کے لیے نہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی زندگی کو عمل اور جزا کے اصول کے تحت رکھا گیا ہے۔ یعنی موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں عمل کرنا اور موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں اس کا انجام پانا۔ یہی قانون انسان کی زندگی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے کلید کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس قانون کو سمجھنے کے بعد انسان کی پوری زندگی با معنی بن جاتی ہے۔ یہ قانون انسان کی زندگی کے تمام سوالات کا کامل جواب فراہم کرتا ہے۔ اس قانون کو جاننے کے بعد پوری انسانی زندگی کی تشفی بخش توجیہہ مل جاتی ہے۔ اس قانون کے مطابق، موت سے پہلے کی دنیا انسان کے بیج ڈالنے کا مرحلہ ہے اور موت کے بعد کی دنیا اس کے نتیجے میں ہر ابھرا درخت اور پھول پھل پانے کا مرحلہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ موجودہ دنیا میں پھول اور پھل حاصل کرنے کی لا حاصل کوشش نہ کرے بلکہ وہ اپنی ساری توجہ بہترین طور پر تخم ریزی میں لگا دے۔ یہ وہ انسان ہے جو موت کے بعد کی دنیا میں جنت کی صورت میں وہ سب کچھ پالے گا جس کو وہ موت سے پہلے کی دنیا میں نہ پاسکا تھا۔ مادی ترقی کا سراب موجودہ دنیا میں مادی ناکامی بھی اتنی ہی بے معنی ہے جتنا کہ مادی کامیابی۔ اس کی مثالیں برابر مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ مثلاً بمبئی میں ۲۹ جولائی ۲۰۰۲ء کو یہ واقعہ ہوا کہ ۲۵ سالہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader