Urdu book · انسان کی منزل

مادی ترقی کا سراب

Urdu book, p. 111

By Maulana Wahiduddin Khan

حسین دنیا بنا سکے۔ مگر مادی اعتبار سے جب وہ سب کچھ حاصل کر چکا ہوتا ہے تو اُس پر منکشف ہوتا ہے کہ اُس کی بنائی ہوئی جنت میں اُس کو حقیقی سکون حاصل نہیں۔ یہ کم وبیش ہر انسان کا حال ہے۔ ہر انسان خود اپنے بنائے ہوئے خوبصورت مادی قبرستان میں دفن ہورہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان کی مطلوب دنیا لا محدود راحتوں کی دنیا ہے۔ ایسی دنیا موجودہ محدود عالم میں بن نہیں سکتی۔ وہ صرف موت کے بعد آنے والی دنیا میں بن سکتی ہے۔ یہ اگلی دنیا لامحدود بھی ہے اور ابدی بھی۔ اسی کے ساتھ یہ ہوگا کہ انسان جب اگلی دنیا میں پہنچے گا تو اس کو ایک نیا وجود دیا جائے گا جو ہر قسم کی کمیوں سے پاک ہوگا۔ موجودہ دنیا میں اگر کوئی شخص اپنے لیے کامیاب زندگی کا نقشہ بنانا چاہتا ہے تو اس کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہیے کہ اس معاملے میں خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) کیا ہے۔ اس دنیا میں کامیاب زندگی کی تعمیر خدا کے تخلیقی نقشے کی موافقت کر کے ہوسکتی ہے۔ خدا کے تخلیقی نقشے کو نظر انداز کر کے کوئی شخص یہاں اپنے لیے کامیاب زندگی نہیں بنا سکتا۔ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، موت سے پہلے کی عارضی دنیا صرف امتحان کے لیے ہے۔ اس نقشہ کے مطابق ،مطلوب زندگی کی تعمیر صرف موت کے بعد کی زندگی میں ممکن ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کوشش کرے کہ وہ موت سے پہلے کے امتحان میں اپنے آپ کو کامیاب بنائے تا کہ وہ موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں خدائی انعام کے طور پر اپنی مطلوب دنیا حاصل کر سکے۔ کامیاب زندگی کی تعمیر کا یہی واحد اصول ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page