Urdu book · انسان کی منزل

مادی ترقی کا سراب

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

مس انڈیا نفیسہ جوزف نے اپنے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کرلی ۔ حالاں کہ اس وقت وہ نہایت کامیاب ماڈل بنی ہوئی تھیں ۔ اُن کا یہ قول خود اُن کے اوپر صادق آیا کہ مشہور ہونا گویا پانی کے بلبلے میں رہنا ہے ، جو کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے : Being famous is like living in a bubble that can burst any moment. اسی ممبئی سے ایک اور زیادہ اہم خبر آئی ہے جو انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (نئی دہلی) کے شمارہ ۲۲ اگست ۲۰۰۲ میں چھپی ہے۔ یہ مشہور صنعت کار جگجی لال کملاپت سنگھانیہ کے پوتے گوتم سنگھانیہ کا انٹرویو ہے جو مذکورہ اخبار کے ضمیمہ (Times Life) کے صفحہ اول پر نمایاں طور پر چھپا ہے۔ مسٹر گوتم سنگھانیہ ہندوستان کے بڑے صنعت کاروں میں سے ایک ہیں۔ مگر دولت نے اُنھیں خوشی نہیں دی ۔ دولت کے انبار میں رہتے ہوئے وہ مکمل طور پر بے سکونی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ممبئی میں اپنی بظاہر آرام دہ رہائش گاہ میں بیٹھ کر اُنھوں نے ٹائمز آف انڈیا کے نیوز نیٹ ورک سے ملاقات میں یہ باتیں کہیں ۔ گوتم سنگھانیہ بظاہر تمام مادی چیزوں کے مالک ہیں — ایک ہزار کروڑ کی ایمپائر کا ورثہ، کئی ہوائی جہاز، کاریں، تفریحی کشتی، وغیرہ (مگر ان سب کے باوجود گوتم سنگھانیہ کو ۳۱ سال کی عمر میں بھی خوشی حاصل نہیں ) ۔ میں دنیا کے دس ایسے آدمیوں کے نام لے سکتا ہوں جو اتھاہ دولت کے مالک ہیں مگر وہ انتہائی غمگین زندگی گزار رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت، شہرت، اقتدار، یہ چیزیں آپ کو خوشی نہیں دے سکتیں : The son of Vijaypat Singhania had it all, a thousand crore empire to inherit, planes, cars, yachts. I can name 10 people who have all the money in the world, but are miserable. So, money, fame, power—these things can’t make you happy. اصل یہ ہے کہ ہر انسان اپنے ذہن میں ایک پر مسرت دنیا (جنت) کا حسین تصور پیدائشی طور پر لیے ہوئے ہے ۔ وہ اپنی ساری طاقت استعمال کر کے دولت کماتا ہے تاکہ وہ اپنے تخیل کے مطابق،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page