Urdu book · انسان کی منزل

انسان کی منزل

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ذریعے وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ موت کے بعد آنے والی دنیا میں وہ وہاں کا ایک کامیاب شہری بن سکے۔ روحانیت گویا مذہب کا خلاصہ ہے۔ روحانیت وہ تربیت گاہ ہے جہاں لوگ اس قابل بنائے جاتے ہیں کہ وہ موت کے بعد آنے والے دوحیات میں اپنے لیے ایک اعلیٰ مقام پاسکیں۔ روحانی ترقی روحانی ترقی کیا ہے۔ روحانی ترقی اپنی داخلی شخصیت میں ربانی بیداری لانے کا دوسرا نام ہے۔ مادی خوراک انسان کے جسمانی وجود کو صحت مند بناتی ہے۔ اسی طرح انسان کا روحانی وجود ان لطیف تجربات کے ذریعے صحت مند بنتا ہے جن کو قرآن میں رزق رب (ربانی خوراک ) کہا گیا ہے۔ ۱۶ جولائی ۲۰۰۴ کا واقعہ ہے۔ اس دن دہلی میں سخت گرمی تھی۔ دوپہر بعد دیر تک کے لیے بجلی چلی گئی۔ چھت کا پنکھا بند ہوگیا۔ میں اپنے کمرے میں سخت گرمی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا۔ دیر تک میں اسی حالت میں رہا یہاں تک کہ بجلی آگئی اور پنکھا چلنے لگا۔ یہ ایک اچانک تجربے کا لمحہ تھا۔ پنکھا چلتے ہی جسم کو ٹھنڈک ملنے لگی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اچانک مصیبت کا دور ختم ہوگیا اور اچانک راحت کا دوسرا دور آگیا۔ اس وقت مجھے پیغمبر اسلام کی وہ حدیثیں یاد آئیں جن میں بتایا گیا ہے کہ دنیا مومن کے لیے مصیبت کی جگہ ہے۔ جب مومن کی موت آئے گی تو اچانک وہ اپنے آپ کو جنت کے باغوں میں پائے گا۔ دنیوی زندگی کا پر مصیبت دور اچانک ختم ہو جائے گا اور عین اسی وقت پر راحت زندگی کا دور شروع ہو جائے گا۔ جب یہ تجربہ گزرا تو میری فطرت میں چھپے ہوئے ربانی احساسات جاگ اٹھے۔ مادی واقعہ روحانی واقعے میں تبدیل ہو گیا۔ میرے دل نے کہا کہ کاش ، خدا میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ فرمائے۔ جب میرے لیے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آئے تو وہ ایک ایسا لمحہ ہو جو اچانک دور مصیبت سے دور راحت میں داخلے کے ہم معنی ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page