Urdu book · انسان کی منزل

جنت کے دروازے پر

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

جو خدائی اہتمام کے تحت وجود میں آئے گی۔ جنت ایک تخلیقی آغاز کی فطری انتہا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات بے حد وسیع ہے، اتنی زیادہ وسیع کہ انتہائی طاقتور دور بینوں کی دریافت کے باوجود ابھی تک اس کی وسعتوں کا اندازہ نہ ہوسکا۔ اس ناقابلِ پیمائش حد تک وسیع کائنات میں زمین ایک بے حد چھوٹا سیارہ ہے۔ کائنات کے مقابلے میں ہماری زمین اُس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلے میں ایک ذرّہ۔ زمین کا یہ گہرہ وسیع کائنات کے اندر ایک انتہائی نادر استثناء ہے۔ پوری کائنات میں زمین واحد ایسا مقام ہے جہاں استثنائی طور پر پانی، سبزہ، ہوا اور آکسیجن جیسی چیزیں موجود ہیں۔ زمین پر زندگی ہے اور اسی کے ساتھ وہ چیز بھی موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ زمین کے اندر وہ ساری قیمتی چیزیں رکھ دی گئی ہیں جن کو استعمال کر کے انسان تہذیب و تمدن کی تعمیر کرتا ہے۔ زمین کے اندر تہذیب کے تمام اجزاء امکانی طور پر موجود ہیں۔ انسان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس پوٹینشیل (potential) کو ایکچول (actual) بنائے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو تہذیب کی تاریخ مسلسل طور پر ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف جارہی ہے۔ وہ ترقی کے ابتدائی مرحلے سے گزر کر ترقی کے اعلیٰ مرحلے کی طرف اپنا سفر طے کر رہی ہے۔ تہذیب کے اس سفر کی تفصیل اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تیار کردہ کتاب تاریخ البشریہ (The History of Mankind) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ تہذیب انسانی کے اس سفر کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الانشقاق میں بتایا گیا ہے کہ زمین پر رات اور دن کی صورت میں بار بار تبدیلی کا واقعہ ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح زمین پر زیادہ بڑا واقعہ بھی پیش آئے گا۔ چنانچہ فرمایا کہ: تم کو ضرور ایک حالت کے بعد دوسری حالت پر پہنچنا ہے۔ تو انھیں کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو وہ خدا کی طرف نہیں جھکتے: You will surely move from one stage to another stage. What then is the matter with them, that they believe not? and when the Qur'an is read to them, they don't surrender before God. (84: 19-21)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page