Urdu book · انسان کی منزل

جنت کے دروازے پر

Urdu book, p. 120

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی ان آیات میں انسان کی اسی تہذیبی تاریخ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا ارتقاء معلوم طور پر بتا رہا ہے کہ انسانی تہذیب مسلسل ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس ترقی کا آخری نمونہ وہی ہوگا جس کو روحانی تہذیب یا جنت کہا گیا ہے۔ تہذیب کی تاریخ بتاتی ہے کہ معلوم طور پر، انسانی تہذیب تین بڑے ادوار سے گزر چکی ہے۔ تمام قرائن بتا رہے ہیں کہ اب وہ اپنے سفر کے چوتھے اور آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ تہذیب کے یہ تین بڑے ادوار حسب ذیل ہیں: ۱۔ حجری تہذیب (Stone Civilization) ۲۔ زرعی تہذیب (Agricultural Civilization) ۳۔ صنعتی تہذیب (Industrial Civilization) ہر شخص جانتا ہے کہ تہذیب کے یہ تین ادوار وقوع میں آچکے ہیں۔ تاہم فیوچر شاک (Future Shock) کے مصنف الون ٹافلر (Alvin Taffler) کا کہنا ہے کہ تہذیب کا چوتھا، اور شاید آخری دور مستقبل میں ظاہر ہونے والا ہے۔ اس چوتھے دور کو الون ٹافلر نے سپر انڈسٹریل ایج (Super Industrial Age) کہا ہے۔ یہ چوتھا دور، پچھلے ادوار کے مقابلے میں، مادی سے زیادہ غیر مادی ہوگا۔ اس لیے زیادہ بہتر ہے کہ اس چوتھے دور کو روحانی تہذیب (Spiritual Civilization) کا نام دیا جائے۔ ۱۔ اب پہلی تہذیب، حجری تہذیب کو لیجئے۔ یہ تہذیب کا وہ دور ہے جب کہ انسان صرف یہ کر سکتا تھا کہ زمین کی سطح پر بوقت ضرورت جو چیزیں موجود ہیں ان کو اسی خام صورت میں استعمال کرے۔ ان موجودہ چیزوں میں پتھر سب سے زیادہ نمایاں حیثیت رکھتا تھا۔ اس لیے علامتی طور پر اس دور کو حجری دور کہا گیا۔ اگرچہ ابتدائی تہذیب کے اس دور میں پتھر کے علاوہ دوسری بہت سی چیزیں استعمال میں آئیں جو پہلے سے زمین کی سطح پر دستیاب تھیں ۔ مثلاً لکڑی، حیوانات، باقاعدہ زراعت کے بغیر ملنے والی پیداوار، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page