Urdu book · انسان کی منزل

جنت کے دروازے پر

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنی تمام وسعتوں کے ساتھ اہل جنت کے چارج میں دے دی جائے گی (الحديد: ٢١) اسلامی روایات کے مطابق ، زمین اپنی ابتدا میں جنوں کے چارج میں تھی ۔ اس کے بعد وہ انسانوں کے چارج میں دی گئی۔ اب وہ آخری دور آنے والا ہے جب کہ زمین مکمل طور پر فرشتوں کے چارج میں دے دی جائے ۔ اُس وقت زمین میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں گی کہ وہ پورے معنوں میں ایک آئیڈیل ورلڈ اور پرفیکٹ ورلڈ بن جائے ۔ زمین کے اس ارتقائی دور کی بابت قرآن میں اشارات موجود ہیں۔ مثلاً فرمايا که : یہ وہ دن ہوگا جب کہ زمین خدا کے نور سے جگمگا اُٹھے گی (الزمر ٦٩) آج زمین امکانی معنوں میں جنت ہے۔ کل یہ امکان واقعہ بن جائے گا ۔ اور پھر زمین خوشیوں اور راحتوں کا ابدی مقام بن جائے گی ۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین کی موجودہ حالت آئیڈیل حالت نہیں ہے ۔ زمین پر نیچر کا قائم کیا ہوا لائف سپورٹ سسٹم بہترین حالت میں موجود ہے ۔ زمین پر ہر قسم کے سامانِ حیات بہترین حالت میں موجود ہیں، مگر اسی کے ساتھ زمین پر ایک غیر آئیڈیل حالت پائی جاتی ہے۔ یہاں اچھے لوگوں کے ساتھ بُرے لوگ بھی موجود ہیں۔ برے لوگوں کی یہ موجودگی زمین پر ہر قسم کے فسادات کا سبب ہے۔ جب ارتقائی سفر کا آخری مرحلہ سامنے آئے گا تو زمین کی آبادی سے تمام برے لوگ چھانٹ کر الگ کر دیے جائیں گے۔ اس کے بعد زمین صرف اچھے لوگوں کے چارج میں آجائے گی ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : ”اور ہم نے زبور میں موعظت کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے‘‘ (الانبیاء ١٠٥) یہ بات جو قرآن میں بتائی گئی ہے وہ اب بھی تفصیل کے ساتھ بائبل (زبور) میں موجود ہے۔ اس کا ایک جُزو یہ ہے— پُرشریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی ۔ صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے : The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever (Psalm 37:29)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page