جنت کے دروازے پر
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
ہستی کے تمام امکانات کو استعمال کرے۔ وہ کامل فل فل منٹ کا اعلیٰ تجربہ کر سکے۔ جنت گویا انسانی تہذیب کے ارتقائی عمل کا نقطۂ عروج (culmination) ہے۔ جنت اُس پرفیکٹ اور آئیڈیل دنیا کا ظہور ہے جس کا خواب ہمیشہ سے انسان دیکھتا رہا ہے۔ جنت میں پہنچ کر انسان تمام مصائب اور تمام مصیبتوں سے نجات پا جائے گا۔ جنت راحتوں اور خوشیوں کا وہ معیاری مقام ہوگا جس کے لیے کوئی فنا نہیں۔ مزید یہ کہ جنت کوئی ٹھہراؤ کی جگہ نہ ہوگی (الکھف: ۳۱)۔ جنت میں انسان کو ہر وقت نئی نئی دریافتیں ہوں گی، ایسی دریافتیں جن کا سلسلہ کبھی ختم نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جنت میں بورڈم نہیں ہوگا۔ کیوں کہ بورڈم وہاں ہوتا ہے جہاں نئی دریافتیں نہ ہو رہی ہوں۔ انسان کے لیے نئی دریافت خوشی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جنت میں ہر روز لامحدود حقائق کا کوئی نیا دروازہ کھلتا رہے گا۔ اسی لیے جنت کی خوشی ایک ابدی خوشی ہوگی، نہ کہ صرف ایک وقتی خوشی۔ اس جنت کا بننا اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ زمین کا بننا اور زمین پر مختلف تہذیوں کا وجود میں آنا۔ قدیم حجری دور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ زرعی دور چھپا ہوا تھا جو اپنے وقت پر ظاہر ہوا۔ اسی طرح زرعی دور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ صنعتی دور چھپا ہوا تھا جو اپنے وقت پر ظاہر ہو کر سامنے آیا۔ اسی طرح صنعتی دور کے اندر زیادہ ترقی یافتہ، لطیف اور روحانی دور چھپا ہوا ہے جو اپنے وقت پر ظاہر ہو کر لوگوں کے سامنے آجائے گا۔ اس روحانی دور یا جنتی دور کا ظہور میں آنا عملی طور پر اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ پچھلے ادوار کا ظہور میں آنا۔ جب جدید صنعتی دور آیا تو زمین کو دوبارہ سجایا گیا۔ منصوبہ بند انداز میں اس کی تعمیر کی گئی۔ تمدنی ترقیوں نے زمین کو ایک نئی، زیادہ بہتر زمین بنا دیا۔ اسی طرح جب تہذیبی ترقی کا آخری دور، روحانی دور آئے گا تو زمین کو مزید زیادہ بہتر اور زیادہ مکمل بنا دیا جائے گا۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں واضح اشارے موجود ہیں۔ مثلاً فرمایا کہ: اُس وقت زمین زیادہ کشادہ کر دی جائے گی (الانشقاق ۳) زمین کے صالح باشندے آزادانہ طور پر اس کے مالک بن جائیں گے (الزمر: ۷۴) حتیٰ کہ پوری کائنات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader