Urdu book · انسان کی منزل

محاسبہ(accountancy

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

محاسبہ(accountancy) کہا جاتا ہے کہ موجودہ زمانے کی سب سے بڑی انڈسٹری لوپ ہول انڈسٹری ہے۔ یعنی قوانین ملکی میں رخنہ تلاش کر کے اُس سے بچنے کی صورت نکالنا: A means of evading a rule. کوئی قانون، خواہ وہ کتنا ہی مکمل ہو، وہ بہر حال انسانی زبان میں ہوتا ہے، اور انسانی زبان ایک محدود ذریعہ اظہار ہے، وہ لا محدود طور پر تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی زبان میں بنائے ہوئے ہر قانون میں loophole موجود ہوتے ہیں۔ انسانی دماغ اس لوپ ہول کو دریافت کر کے اپنے لیے قانون سے فرار کی گنجائش نکال لیتا ہے۔ مثلاً ایک تاجر ٹیکس کے قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ وہ اپنی کمائی سے مطلوب ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ اب انکم ٹیکس کا محکمہ ٹیکس کی قانونی دفعات کا حوالہ دے کر اس پر فرد جرم عائد کرتا ہے۔ اس کے بعد تاجر یہ کرتا ہے کہ وہ ایک قانونی ماہر کو بہت بڑی رقم دے کر حاصل کرتا ہے۔ یہ قانونی ماہر قانونی دفعات کا گہرا مطالعہ کر کے ایسے قانونی نکتے دریافت کرتا ہے، جس کی روشنی میں ٹیکس کا وہ قانون مذکورہ تاجر پر منطبق نہ ہو سکے۔ وہ عملاً باطل ہو کر رہ جائے۔ یہ معاملہ صرف ایک تاجر اور ایک وکیل کا نہیں ہے۔ بلکہ وہ ہر انسان کا ہے۔ موجودہ دنیا میں جو بھی معاملہ پیش آتا ہے وہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اس دنیا میں ہر معاملہ دو برابر کے فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، اس لیے دونوں طرف یہ نفسیات ہوتی ہے کہ جیسا میں ہوں ویسا ہی وہ بھی ہے۔ ہر فریق کو یہ احساس رہتا ہے کہ اگر میں ہوشیاری کر کے اپنے لیے بچنے کا راستہ نکال لوں تو اس کے بعد دوسرا فریق میرے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ صورت حال انسانی زندگی سے خوف کا عنصر نکال دیتی ہے، حالاں کہ خوف کے بغیر انسانی زندگی میں ڈسپلن قائم کرنا ممکن نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page