Urdu book · انسان کی منزل

محاسبہ(accountancy

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملے کا حل صرف خدا کے عقیدے میں ہے۔ خدا کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ایسی ہستی ہے۔ جو تمام انسانوں سے بڑی ہے۔ جس کو ہر عورت اور مرد کے اوپر اعلیٰ اختیار حاصل ہے۔ جو خدا ہر ایک کو پکڑ سکتا ہے جو ہر ایک کو اس کے جرم کی سزا دے سکتا ہے۔ جس کی گرفت سے کوئی بھی شخص باہر نہیں۔ اس طرح خدا کا عقیدہ انسانی زندگی میں خوف کے عنصر کو حتمی طور پر شامل کر دیتا ہے۔ جس کا شامل ہونا انتہائی طور پر ضروری ہے۔ مزید یہ کہ خدا کا عقیدہ بتاتا ہے کہ خدا کو ہر بات کا علم ہے۔ وہ کھلے اور چھپے دونوں سے یکساں طور پر باخبر ہے۔ حتیٰ کہ وہ دل کی حالت کو بھی جانتا ہے۔ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ انسان اپنے دماغ میں کیا سوچ رہا ہے۔ انسان خواہ اندھیرے میں ہو یا اُجالے میں، وہ تنہا ہو یا پبلک میں، ہر حالت میں وہ خدا کی نظر میں ہے۔ کسی بھی حال میں وہ خدا کی پہنچ سے باہر نہیں۔ خدا کے اس عقیدے سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو محاسبہ (accountability) کہا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ، ہر عورت اور مرد کے ذہن میں یہ بات بٹھا دیتا ہے کہ اس کی آزادی مطلق آزادی نہیں، وہ خدا کے حکم کے تحت ہے۔ آخر کار خدا ہر ایک سے اس کے قول و عمل کا حساب لینے والا ہے۔ عورت اور مرد دونوں ہر حال میں خدا کی مسلسل نگرانی کے تحت ہیں۔ کسی بھی حال میں وہ خدا کی نگرانی سے باہر نہیں۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو کسی انسان کو صالح انسان بناتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس کے ذریعے انسانوں کا وہ مجموعہ ظہور میں آتا ہے، جس کو صالح سماج کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس فرد میں یا جس سماج میں محاسبے کا تصور نہ ہو وہ فرد یا سماج انارکی کا سماج بن جائے گا۔ ایسے سماج میں صالح افراد کی پرورش نہیں ہو سکتی۔ خدا کا تصور انسانی زندگی کی صحیح تشکیل کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ انسان کے اندر بار بار ایسی تحریصات (temptations) آتی رہتی ہیں، جو انسان کو نا انصافی اور ظلم پر ابھرتی ہیں۔ ایسے موقع پر خود انسان کے اندر یا سماج کے اندر ایسا کوئی محرک موجود نہیں جو اس کے اوپر چیک لگائے۔ جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page