Urdu book · انسان کی منزل

کائنات میں انسان کا مقام

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

کائنات میں انسان کا مقام انسان اور انسان کے درمیان تعلق کی نوعیت کیا ہے اس کو مصلحین(reformers)اور مفکرین نے درست طور پر دریافت کیا۔ یہ تعلق مختصر طور پر یہ تھا ہر انسان آزاد ہے، اس وقت تک جب تک کہ ایک انسان کی آزادی دوسرے انسان کی آزادی میں خلل ڈالنے والی نہ ہو۔ اس نظریے کو ایک کہانی میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکا جب یورپ کے سیاسی قبضے سے آزاد ہوا، اس وقت ایک امریکی شہری اپنے گھر سے باہر نکلا۔ وہ اپنی آزادی کا جشن منانا چاہتا تھا۔ وہ ایک سڑک پر اپنے دونوں ہاتھ ہلاتا ہوا بے فکری کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس اثنائ میں اس کا ایک ہاتھ دوسرے مسافر کی ناک سے ٹکرا گیا۔ مسافر کو غصہ آگیا۔ اس نے کہا کہ یہ کیا بیہودگی ہے۔ تم نے کیوں اپنے ہاتھ سے میری ناک پر مارا۔ امریکی شہری نے جواب دیا کہ آج امریکا آزاد ہے۔ اب میں آزاد ہوں کہ میں جو چاہوں کروں۔ مسافر نے کہا کہ میرے بھائی، تمہاری آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے میری ناک شروع ہوتی ہے: My brother, your freedom ends where my nose begins. یہ قصہ انسان اور انسان کے درمیان تعلق کے اصول کو درست طور پر بیان کرتا ہے۔ مگر جہاں تک انسان اور خدا کے درمیان تعلق کی بات ہے اس کو انسان درست طور پر دریافت نہ کر سکا۔ اس طرح اس معاملے میں انسان کی دریافت صرف پچاس فیصد کے بقدر تھی۔ تا ہم یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اور انسان کے درمیان تعلق کا اصول ہی یہ بتا رہا ہے کہ انسان اور خدا کے درمیان درست تعلق کا اصول کیا ہے۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ اس تعلق کا اصول مختصر طور پر یہ ہے انسان کی آزادی اس حد پر ختم ہو جاتی ہے جہاں سے خدا کی حد شروع ہوتی ہے: Man's freedom ends where God's domain begins.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page